.

الحدیدہ سمجھوتے سے یمن کو زیادہ امداد تک رسائی حاصل ہو گی: شہزادہ خالد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں متعیّن سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ الحدیدہ میں جنگ بندی کے سمجھوتے سے یمن کو زیادہ امداد تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔

انھوں نے جمعرات کو سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا ہے کہ سویڈن میں یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات کے بعد اعلان کردہ سمجھوتے سے بحیرہ احمر سمیت خطے میں سکیورٹی میں اضافہ ہوگا ۔سعودی عرب اور عرب اتحاد اس سمجھوتے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ’’یہ سمجھوتا یمن میں انسانی بحران کے خاتمے اور تنازع کے سیاسی حل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ہم یہ امید کرتے ہیں کہ اس سے یمن میں قیام امن کی راہ ہموار ہوگی اور حوثی اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق بحران کے ایک جامع سیاسی حل کو قبول کریں گے۔وہ ایرانی رجیم کے مفادات کے لیے کام کرنے کے بجائے یمن اور اس کے عوام کے مفادات کے لیے کام کریں گے‘‘۔

شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کو سیاسی عمل سے دستبرداری کی غلطی کا اعادہ نہیں کرنا چاہیے۔جیسا کہ انھوں نے جنیوا میں یمن قومی مکالمے اور کویت میں مذاکرات کے موقع پر کیا تھا کیونکہ برادر یمنی عوام امن کے حقیقی موقع کے حق دار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یمن کی قانونی حکومت نے اقوام متحدہ کے سابق خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا کی الحدیدہ کی بندرگاہ کو اقوام متحدہ کے کنٹرول میں دینے کی تجویز کی حمایت کی تھی لیکن یہ حوثی تھے جنھوں نے تب اس تجویز کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔اب یمن کی مسلح افواج اور عرب اتحاد کے مسلسل دباؤ کے نتیجے میں وہ اس تجویز کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

شہزادہ خالد بن سلمان نے ایک اور ٹویٹ میں واضح کیا ہے کہ ’’سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی انسانی امداد کے لیے اپیل کے جواب میں یمن کو سب سے زیادہ اربوں ڈالرز امداد کی شکل میں دیے ہیں جس سے یمنی عوام کے مصائب ومشکلات میں کمی لانے میں مدد ملی ہے۔ہم یمن میں انسانی بحران کے خاتمے اور اس کی تعمیر ِ نو میں مدد دینے کے لیے پُرعزم ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم امن کے لیے ہر موقع کا خیرمقدم کرتے ہیں۔زخمی حوثی جنگجوؤں کی علاج کے لیے یمن سے باہر منتقلی عرب اتحا د کی یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے سیاسی امن عمل کی حمایت کا مظہر تھی اور اس سے سویڈن میں امن مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی تھی‘‘۔