.

شام سے متعلق ترک صدر کے ٹرمپ کے بارے میں موقف سے لا علم ہیں: پینٹا گون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع 'پینٹا گون' نے کہاہے کہ امریکی فوجی قیادت ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے اس بیان کا جائزہ لے رہی ہےجس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں شام میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی میں معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌کے مطابق 'پینٹاگون' کےشعبہ اطلاعات کے ترجمان کرنل رابرٹ مانینگ نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا کہ امریکی عسکری قیادت کو ترک صدر کے اس بیان سےمتعلق بریفنگ دی گئی ہے جس میں انہوں‌نے کہا تھا کہ ڈونلد ٹرمپ نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ مشرقی شام میں دریائے فرات کے اطراف میں فوجی کارروائی کی حمایت کریں گے۔ حوالے کرنے کا یقین دلایا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ عسکری قیادت ٹرمپ کی طرف سے ایسی کسی بھی یقین دہانی سےقطعی لا علم ہے۔

ترجمان نے کہا کہ فی الحال امریکی محکمہ دفاع اس پر اپنا کوئی رد عمل نہیں دے گا۔ ہم یہ جاننا چاہتےہیں کہ آیا صدر ٹرمپ کی طرف سے ترکی کو ایسی کوئی یقین دہانی کرائی گئی ہے یا نہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ شام میں ترک فوج کی دراندازی اور کوئی بھی فوجی کارروائی خطرات سے بھرپور اور باعث تشویش ہوگی۔

خیال رہےکہ ترک صدر طیب ایردوآن نے کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ تزویراتی شراکت کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔ دہشت گرد تنظیم کو شام کےعلاقوح سے نکال باہر کرنے کے لیے امریکی صدر نے مشرقی فرات میں ترکی کے فوجی اپریشن کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ ترک صدر کا کہناتھا کہ یہ آپریشن کسی بھی وقت شروع ہوسکتا ہے۔ ترک صدر نے کہا کہ یہ آپریشن آخری دہشت گرد کے خاتمےتک جاری رہے گا۔