فرانس : زرد صدریوں والے مظاہرین نے ہائی ویز پر ٹُول بوتھوں کو آگ لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس میں "زرد صدریوں" والے احتجاج کنندگان نے ہائی ویز پر واقع کئی ٹُول بوتھوں پر قبضہ کر کے ان میں سے بعض کو آگ لگا دی۔ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں کرسمس کی تعطیلات سے چند روز قبل ٹرانسپورٹ سیکٹر میں افراتفری مچ گئی ہے۔

فرانس میں سب سے بڑے ٹول روڈ آپریٹر Vinci Autoroutes کا کہنا ہے کہ اس کے نیٹ ورک کے 40 کے قریب مقامات پر مظاہرے بھڑک اٹھے۔ اس دوران ہائی ویز کے کئی سنگموں کو بالخصوص کئی سیاحتی شہر اور ٹاؤنز میں شدید نقصان پہنچایا گیا۔

حکام نے منگل کے روز آگ لگانے کے واقعات کے بعد 20 کے قریب افراد کو حراست میں لے لیا جب کہ ہفتے کے روز لگائی جانے والی آگ کے بعد پکڑے جانے والوں میں سے 4 افراد اب بھی زیر حراست ہیں۔

مذکورہ آپریٹر نے اپنے ایک بیان میں گاڑیوں اور سواریوں کے چلانے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ راہ گیروں کی بڑی تعداد موجود ہونے کے سبب ٹول گیٹس یا ہائی ویز پر سنگموں کے نزدیک پہنچنے پر انتہائی ہوشیار رہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران زرد صدریوں والے احتجاج کنندگان کی جانب سے سڑکوں کی بندش کے باعث ٹریفک حادثات میں کئی افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر حادثات ان چوراہوں پر ہوئے جو مظاہرین کے گروپوں نے بند کر رکھے ہیں۔

زرد صدریوں کی تحریک کا آغاز ایندھن پر ٹیکس میں اضافے کے خلاف احتجاج کے واسطے ہوا تھا تاہم بعد ازاں یہ فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف وسیع تر مظاہروں کی شکل اختیار کر گئی۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں