.

تیونس : 8 برس کی پابندی کے بعد شام کے پہلے طیارے کی آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے اور اپنے ہوائی اڈوں پر اترنے کے حوالے سے شام کی فضائی کمپنیوں کے طیاروں پر عائد پابندی اٹھا لی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان فضائی پروازوں کا سلسلہ 8 برس سے موقوف تھا۔

جمعرات کے روز دمشق سے آنے والا ایک شامی فضائی کمپنی کا طیارہ المنستير انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا۔ یاد رہے کہ 6 برس پہلے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بھی منقطع ہو گئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق "اجنحۃ شام" کمپنی کا طیارہ تقریبا 150 مسافروں کو لے کر تیونس پہنچا۔ یہ مسافر سال کے اختتام پر تعطیلات گزارنے کے لیے آئے ہیں۔

مذکورہ فضائی کمپنی کے ڈیولپمنٹ آفیسر اسامہ ساطع نے SANA نیوز ایجنسی کو بتایا کہ یہ پرواز تیونس کے لیے باقاعدہ پروازوں کا آغاز ہے جو شامی مسافروں کو یورپ منتقل کرنے کے سلسلے میں ایک اہم اسٹیشن ہے۔

اگرچہ یہ پرواز سیاحتی نوعیت کی حامل تھی تاہم یہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کی جانب ایک قدم ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ ماہ تیونس کے وزیر خارجہ خميس الجہيناوی نے پارلیمنٹ میں اپنی موجودگی کے دوران کہا تھا کہ "تیونس دمشق میں اپنے سفارت خانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے"۔

تیونس نے شام میں مقیم اپنے 6 ہزار کے قریب شہریوں کے انتظامی امور کے واسطے 2015 میں ایک سفارتی بیورو کھولا تھا۔ یہ بیورو شام کی جیلوں میں دہشت گردی کے الزام کے تحت موجود تیونسی باشندوں کے حوالے سے شامی حکام کے ساتھ رابطہ کاری کا بھی ذمے دار ہے۔