.

سوڈان کے مرکزی بنک کا پُرتشدد مظاہروں کے بعد 2019ء کی مالیاتی پالیسیوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے مرکزی بنک نے ملک میں جاری حکومت مخالف مظاہروں پر قابو پانے کے لیے 2019ء کی پالیسیوں کے نئے مرحلے کا ا علان کیا ہے۔

مرکزی بنک کے مطابق ان پالیسیوں کا مقصد افراط ِ زر پر قابو پا نا اور اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں توازن پیدا کرکے استحکام حاصل کرنا ہے۔ سوڈان میں بنکوں میں نقد رقوم کے بحران کی وجہ سے مالیاتی صورت حال خراب ہوئی ہے جس کے بعد بنکوں نے رقوم نکلوانے کی بھی ایک حد مقرر کردی تھی۔

سنٹرل بنک کے گورنر محمد خیر الزبیر نے دارالحکومت خرطوم میں ایک پریس کانفرنس میں سوڈانی پاؤنڈ کی قدر میں کمی کو مالیاتی بحران کا ذمے دار قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ نئی پالیسیوں کے تحت بنکوں کو صنعتی شعبے کو رقوم مہیا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور زرمبادلہ کو صرف ترجیحی اشیاء مثلاً تیل ، گندم ، چینی اور زرعی مشینری کی درآمد پر صرف کیا جائے گا۔

سوڈان کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے گذشتہ ماہ روٹی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں ۔ان مظاہروں نے باقاعدہ احتجاجی تحریک کا رُخ اختیار کر لیا تھا اور مظاہرین صدر عمر حسن البشیر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے لگے تھے۔

صدر عمر حسن البشیر نے ان احتجاجی مظاہروں کے بعد گذشتہ ہفتے ملک میں وسیع اقتصادی اصلاحات کے عزم کا اظہار کیا تھا لیکن حزبِ اختلاف نے ان کے ارادوں کے بارے میں اپنے شک کا اظہار کیا ہے۔

سوڈان کی 22 جماعتوں پر مشتمل قومی محاذ برائے تبدیلی نے ایک نئی کونسل کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو نئی عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے خود مختاری حاصل ہونی چاہیے۔اس اتحاد کا کہنا ہے کہ حکومت نے کرپشن کی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رکھا ہوا ہے،اس لیے وہ نئی اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔اس بلاک نے حکومت پر بعض صنعتوں کو نظرانداز کرنے اور بدتر پالیسیوں کو اختیار کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

لیکن صدر بشیر کی حکومت کا کہنا ہے کہ قومی معیشت امریکا کی بیس سال تک جاری رہنے والی اقتصادی پابندیوں سے متاثر ہوئی ہے اور 2011ء میں جنوبی سوڈان کی علاحدگی کے بعد سے تیل سے حاصل ہونے والی آمدن میں ایک تہائی کمی واقع ہوچکی ہے۔یادرہے کہ امریکا نے سوڈان پر 1997ء میں دہشت گردی کی معاونت کے الزام میں پابندیاں عاید کی تھیں اور انھیں اکتوبر 2017ء میں ہٹایا تھا۔