.

افغانستان:سابق جنگی سردارحکمت یارکا صدارتی انتخابات میں بہ طور امیدوارحصہ لینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے سابق جنگی سردار گلبدین حکمت یار نے آیندہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کردیا ہے ۔وہ صدر اشرف غنی کے لیے ایک نیا چیلنج ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے ہفتے کے روز جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا ا علان کرتے ہوئے جنگ زدہ ملک میں امن وسلامتی کی بحالی کے لیے عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حکومت طالبان کے ساتھ جنگ کے خاتمے میں ناکام رہی ہے۔

انھوں نے کابل میں نیوزکانفرنس میں کہا کہ ’’ ہمارے ملک کی صورت حال ایک منتخب صدر کی قیادت میں طاقتور مرکزی حکومت کی متقاضی ہے اور اس کو عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہونی چاہیے‘‘۔

یادرہے کہ گلبدین حکمت یار کی جماعت حزب اسلامی کے جنگجوؤں نے 1990ء کے عشرے میں کابل پر قبضے کے لیے مسلح چڑھائی کی تھی اور ان کی اس جنگی مہم کے دوران میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔حکمت یار سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا کے بعد مختلف جہادی گروپوں پر مشتمل حکومت میں وزیراعظم رہے تھے لیکن وہ کابل میں داخل نہیں ہوسکے تھے۔انھیں ایک متنازعہ شخصیت قرار دیا جاتا ہے ۔وہ 2016ء میں کوئی دوعشرے کی جلا وطنی کے بعد بیرون ملک سے افغانستان لوٹے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ صدارتی انتخابات میں بہ طور پر امیدوار حصہ لے کر دراصل اپنی جماعت حزب اسلامی کو قانونی قرار دلوانا چاہتے ہیں۔ان کی جماعت پر افغان خانہ جنگی کے دورا ن میں جنگی جرائم کے سنگین الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں اور اس کی دوسرے گروپوں کے خلاف لڑائی کے بعد افغانوں نے 1996ء میں طالبان کے ظہور کا خیر مقدم کیا تھا۔

امریکا کے محکمہ خارجہ نے 2003ء میں گلبدین حکمت یار کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور ان پر القاعدہ اور طالبان کے امریکی فورسز اور ان کے اتحادیوں پر حملوں کی حمایت اور ان میں حصہ لینے کا الزام عاید کیا تھا لیکن بعد میں جب صدر اشرف غنی نے ان کے ساتھ امن سمجھوتا طے کیا تھا تو امریکا نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا تھا اور اسی سمجھوتے کے نتیجے میں ان کی وطن واپسی ممکن ہوئی تھی ۔

صدر غنی کی حکومت نے انھیں معافی دے دی تھی لیکن اس کے باوجود سابق جنگی سردار ان کی انتظامیہ کے ناقد بن گئے ہیں اور انھوں نے اکتوبر 2018ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں دھاندلیوں پر تنقید کی تھی۔ افغانستان میں 2014ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں بھی بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور دھاندلیوں کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔

آیندہ صدارتی انتخابات میں صدر اشرف غنی کے مدمقابل مزید امیدوار بھی سامنے آرہے ہیں۔ان میں سابق عہدے دار اور سیاست دان شامل ہیں۔افغان وزیر داخلہ امر اللہ صالح نے ہفتے کے روز اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔ وہ اشرف غنی کے ساتھ نائب صدر کے طور پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔انھیں صدر غنی نے دسمبر ہی میں وزیر داخلہ مقرر کیا تھا۔ وہ طالبان کے خلاف سخت مؤقف کے حامل ہیں ۔