.

ترکی شدت پسندوں کو عسکری سپورٹ فراہم کر رہا ہے: اہم کُرد رہ نما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ایک اہم کرد عہدیدار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترکی کی سرپرستی میں سیف زون کے قیام کی تجویز کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے۔ مذکورہ شخصیت نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دمشق حکومت پر دباؤ ڈالے تا کہ وہ ملک میں کرد جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے۔

یہ بات شام کے شمال اور شمال مشرق میں "ذاتی انتظامیہ" کے منصوبے کی سنگ بنیاد سمجھی جانے والی ڈیموکریٹک سوسائٹی پارٹی کے شریک سربراہ غریب حسّو نے قامشلی سے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ترکی کے حوالے سے ہمارے موقف میں کوئی مروت نہیں ہے۔ ہم نے انقرہ کے ساتھ تعاون کے امکان کو اس امر کے ساتھ مشروط کیا ہے کہ سیف زون کا علاقہ بین الاقوامی یا اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہو۔ ترکی کی سرپرستی میں یہ علاقہ ناقابل قبول ہے اور ہم اس کو ہر گز تسلیم نہیں کریں گے"۔

کرد عہدیدار نے ترکی کے حکام پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کے لیے عسکری، لوجسٹک اور سیاسی سپورٹ فراہم کر رہے ہیں ،،، اور ایسے شواہد موجود ہیں جو دہشت گردوں کے لیے سپورٹ میں انقرہ کے ملوث ہونے کو ثابت کرتے ہیں۔

غریب حسّو نے کہا کہ "انقرہ نے شام میں شدت پسندوں کو بھرپور انداز سے سپورٹ کیا جن میں داعش اور النصرہ تنظیمیں سر فہرست ہیں۔ ان کے علاوہ مسلح شامی اپوزیشن کے گروپ شامل ہیں جو شام کی سرزمین پر حملے کرتے ہیں۔ لہذا ایسی صورت میں اہم ایک بار پھر اس سکیورٹی زون کو مسترد کر رہے ہیں"۔

حسّو نے زور دے کر کہا کہ "کردوں کی ذاتی انتظامیہ کی سرحد ترکی اور اس کی قومی سلامتی کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں بلکہ صاف بات یہ ہے کہ درحقیقت ترکی ہے جو ہماری سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے"۔

کرد رہ نما نے باور کرایا کہ "ترکی کے علاوہ ہمارے پڑوس میں دیگر ممالک کے ساتھ بھی سرحدیں ملتی ہیں۔ ان میں عراق اور کردستان ریجن شامل ہے۔ ہم نے ترکی پر کبھی حملہ نہیں کیا اور اپنی جانب سے اس کی سرحد پر ایک گولی بھی نہیں چلائی۔ تاہم وہ واحد ملک ہے جو اپنی سرحد کے نزدیک ہماری موجودگی کا شکوہ کرتا ہے اور اس کا مقصد صرف کردوں کے خلاف لڑائی ہے"۔

حسو کے نزدیک شام سے امریکی فوج کا انخلا ترکی کے لیے گرین سگنل ہے جو شام میں کرد علاقوں میں نئے قصبوں کو زیر قبضہ لینے کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیف زون کا مقصد کردوں کو تحفظ فراہم کرنا نہیں ہے۔

کرد رہ نما نے سیف زون کے قیام سے متعلق شامی حکومت کے موقف کو "باعث شرمندگی" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر شامی حکومت کی خاموشی پر تشویش ہے اور سیف زون کے قیام سے علاقے میں بسنے والے عوام کی اجتماعی نسل کشی کا خطرہ ہے۔

حسّو کے مطابق "شام میں کردوں کے وجود کے خاتمے کے واسطے انقرہ اور دمشق کے درمیان غیر اعلانیہ سمجھوتا خارج از امکان نہیں"۔

کرد ذمے دار نے ماسکو سے مطالبہ کیا کہ وہ بشار حکومت پر دباؤ کے لیے اپنا تاریخی کردار ادا کرے تا کہ شامیوں کے درمیان باہمی بات چیت کا سلسلہ جاری رہ سکے۔