.

لیبیا کے وزیراعظم اور جنرل خلیفہ حفتر کے درمیان قومی انتخابات کی ضرورت پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ وزیراعظم فایزالسراج اور ملک کے مشرقی حصے کی انتظامیہ کے طاقتور فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر نے قومی انتخابات کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے۔

لیبیا کے ان دونوں رہ نماؤں میں متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظبی میں ملاقات ہوئی ہےاور ان کے درمیان نومبر کے بعد یہ پہلی ملاقات ہے۔ اقوام متحدہ کے لیبیا کے لیے خصوصی مشن نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ انھوں نے لیبیا میں عام انتخابات کے انعقاد کے ذریعے عبوری مراحل کے خاتمے کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے‘‘۔

’’دونوں رہ نماؤں نے ملک میں متحدہ اداروں اور استحکام کو برقرار رکھنے سے بھی اتفاق کیا ہے‘‘۔لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے،ملک کے سیاسی ، انتظامی اور معاشی ادارے زبوں حال ہیں اور ان میں بہت سے ادارے تباہ ہوچکے ہیں۔

فایزالسراج کے ترجمان نے خلیفہ حفتر کے ساتھ ملاقات کی تصدیق کی ہے لیکن کہا ہے کہ ان میں انتخابات کے لیے کسی تاریخ پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔خلیفہ حفتر کے دفتر نے اس ملاقات کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔اقوام متحدہ نے ابو ظبی ملاقات کی مزید کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے۔

اقوام متحدہ نے مغربی طاقتوں کی معاونت سے لیبیا میں دو سال کے عرصے میں انتخابات کرانے کی تجویز پیش کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس صورت ہی میں اس ملک میں گذشتہ آٹھ سال سے جاری بحران کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔

اقوام متحدہ نے پہلے 10 دسمبر 2018ء کو لیبیا میں عام انتخابات کرانے کا ا علان کیا تھا لیکن ملک کی متحارب قوتوں کے درمیان نئے آئین اور دوسرے امور پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے اس تاریخ تک انتخابات کے انعقاد کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی اور پھر یہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیے گئے تھے۔