.

الجزائر:بوتفلیقہ کی نامزدگی کے خلاف دوسرے جمعہ کو بھی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی آمرانہ سیاست کے خلاف عوام ایک بار پھر سڑکوں پر آگئے ہیں۔ کل جمعہ کے روز ملک کے مختلف شہروں میں صدر بوتفلیقہ کی صدارت کے لیے پانچویں بار نامزدگی کے خلاف مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعہ کے روز صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی نامزدگی کے خلاف تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگوں‌ نے مظاہروں میں حصہ لیا۔ ان میں‌ خواتین، بچے اور عمر رسیدہ افراد بھی شامل تھے۔

صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں 'انقلاب' کی آئیکون سمجھی جانے والی مجاھدہ جمیلہ بوحیرد نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر عبدالعزیز بوتفلیقہ سے پانچویں بار صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع نہ کرانے پر زور دیا گیا۔ مظاہرین نے 'نئی نسل عبدالعزیز بوتفلیقہ' کو صدر نہیں چاہتی کے نعرے لگائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الجزائر میں بیشتر ذرائع ابلاغ حکومت کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے مظاہروں کو زیادہ کوریج نہیں مل سکی تاہم سوشل میڈیا ان کا متبادل پلیٹ فارم ثابت ہوا۔

الجزائر کے دارالحکومت میں مظاہرین مرکزی البرید اسکوائر، مرکزی جامع مسجد، موریس ادوان چوک، شاہراہ دیدوش مراد اور دیگر مقامات پر مظاہرے کئے۔ اس موقع پر سیکیورٹی کےسخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یکم مئی اسکوائر میں جمع ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کی شیلنگ کی۔ پولیس نے مرکزی جامعہ کو ملانے والے انڈر پاس کو بند کر دیا۔ پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی بھاری نفری نے مرکزہ جامع مسجد کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پولیس کی طرف سے مظاہرین کے خلاف کریک‌ ڈائون کے ساتھ ساتھ مقامی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو احتجاجی ریلیوں کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی۔ مظاہرین میں صدارتی امیدوار رشید نکاز، کاروباری شخصیت یسعد ربراب، ترقی وانصاف اسلامی محاذ کے چیئرمین عبداللہ جاب اللہ، لیبر پارٹی کی چیئرپرسن لویزہ حونن اور دیگر رہ نائوں نے شرکت کی۔ اپوزیشن رہ نمائوں نے مظاہرین کے ساتھ مل کر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی پانچویں بار صدارتی انتخابات میں نامزدگی کی کوششوں کے خلاف نعرے بازی کی۔

دارالحکومت الجزیرہ کے علاوہ مشرقی ریاست بجایہ، المسیلہ، سطیف، البویرۃ، سکیدۃ الاغواط، تیزی وزو، واد سوف اور دوسرے شہروں میں بھی صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔