الجزائر: صدر مخالف احتجاجی تحریک کا دم توڑنے کے لیے جامعات میں قبل از وقت تعطیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

الجزائر میں حکومت نے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی پانچویں مدت صدارت کے لیے امیدواری کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کا دم توڑنے کے لیے جامعات میں قبل از وقت چھٹیوں کا حکم دے دیا ہے۔جامعات کے طلبہ صدر بوتفلیقہ کی حکومت کے خلاف جاری احتجاجی تحریک میں پیش پیش ہیں۔

الجزائر کی اعلیٰ تعلیم کی وزارت نے یہ فیصلہ دارالحکومت میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کے ایک روز بعد کیا ہے۔ اس نے اپنے حکم میں جامعات میں موسم بہار کی قبل از وقت تعطیلات کرنے کی کوئی وجہ تو نہیں بتائی ہے اور صرف یہ کہا ہے کہ یہ چھٹیاں 20 مارچ کے بجائے اب 10 روز قبل اتوار سے شروع ہوں گی۔

جمعہ کو الجزائر کے وسطی علاقے میں ہزاروں افراد نے صدر بوتفلیقہ کے خلاف احتجاجی ریلی میں شرکت کی تھی اور یہ شہر میں گذشتہ 28 سال کے بعد عوامی طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ مجموعی طور پر یہ مظاہرہ پُرامن رہا تھا۔ البتہ اس کے دوران میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان کہیں کہیں دھینگا مشتی ہوئی تھی ۔ سرکاری میڈیا کی اطلاع کے مطابق تشدد کے واقعات میں 110 افراد اور 112 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

الجزائر میں 22 فروری سے عبدالعزیز بوتفلیقہ کے 18 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بہ طو ر امیدوار حصہ لینے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ دارالحکومت الجزائر اور دوسرے شہروں میں ہزاروں افراد عبدالعزیز بوتفلیقہ کے صدارتی انتخاب لڑنے کے علاوہ ملک میں جاری بے روزگاری ، مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ وہ صدر سے بہ طور امیدوار دستبردار ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اس احتجاجی تحریک میں منقسم حزب اختلاف ، شہری گروپ اور طلبہ پیش پیش ہیں لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تحریک کا کوئی لیڈر ہے اور نہ یہ منظم ہے مگر اب صدر بوتفلیقہ کے طویل عرصے سے اتحادی اور ان کی حکمراں جماعت کے ارکان بھی مظاہرین کی حمایت کرنے لگے ہیں۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمراں اشرافیہ کی صفوں میں بھی دراڑیں آنا شروع ہوگئی ہیں ۔

علیل بوتفلیقہ کی انتخابی مہم کے مینجر عبدالغنی زعلان نے اگلے روز ایک نشری بیان میں کہا تھا کہ عبدالعزیز بوتفلیقہ اپریل میں پانچویں مرتبہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں ایک سال کے اندر نئے صدارتی انتخابات کرادیں گے جن میں ان کے ممکنہ جانشین کا انتخاب کیا جائے گا اور وہ اقتدار سے سبکدوش ہوجائیں گے۔

الجزائری صدر دو ہفتے قبل معمول کے چیک اپ کے لیے سوئٹزر لینڈ گئے تھے اور اس وقت جنیوا یونیورسٹی اسپتال کی آٹھویں منزل پر زیرِ علاج ہیں۔ایک سوئس اخبار کی اطلاع کے مطابق وہ نظام ِتنفس اور اعصاب کے سنگین مسائل سے دوچار ہیں ۔انھیں انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے ،ان کا اعصابی نظام کمزور ہوچکا ہے اور وہ جواب نہیں دے پارہا ہے۔ انھوں نے گذشتہ جمعرات کو پہلی مرتبہ مظاہرین کو انتباہ جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی احتجاجی تحریک سے ملک میں طوائف الملوکی کا دور دورہ ہوسکتا ہے۔

حکومت مخالفین کا کہنا ہے کہ عبدالعزیز بوتفلیقہ کے طبی طور پر تن درست ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جارہا ہے اور ان کے نام پر ان کے مشیر حضرات حکومت چلا رہے ہیں۔الجزائر کے سرکاری کے علاوہ نجی میڈیا کو بھی حزب اختلاف کے صدر کے خلاف مظاہروں کی کوریج سے روک دیا گیا ہے۔حکومت کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا مالکان نے از خود ہی ان حکومت مخالف مظاہروں کی کوریج پر پابندی عاید کر رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں