بھارت : اپریل اور مئی میں سات مراحل میں عام انتخابات کرانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت کے الیکشن کمیشن نے اپریل اور مئی میں سات مراحل میں ملک بھر میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

بھارت کے چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑا نے اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ 11 ، 18 ، 23 اور 29 اپریل اور 6، 12 اور 19 مئی کو سات مراحل میں عام انتخابات کے لیے پولنگ ہوگی اور 23 مئی کو ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگا۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں قریباً 90 کروڑ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ موجودہ حکمراں بھارت جنتا پارٹی ( بی جے پی) کو توقع ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف حالیہ تنازع میں سخت موقف اختیار کرنے پر اپنی مقبولیت برقرار رکھے گی اور عام انتخابات میں دوبارہ کامیابی حاصل کر لے گی لیکن اس کو دسمبر میں تین ریاستوں میں منعقدہ انتخابات میں حزب اختلاف کانگریس کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔

حزب اختلاف کی جماعتیں پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ تنازع کے تناظر میں وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی پر قومی سلامتی کے امور کو ووٹروں پر اثر انداز ہونے کے لیے ہاتھ میں لینے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے ہفتے کے روز سیاسی جماعتوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے انتخابی امیدواروں اور لیڈروں کو دفاعی اہلکاروں کی تصاویر اپنی ریلیوں اور جلسے جلوسوں میں آویزاں کرنے سے روک دیں ۔کمیشن نے کہا تھا کہ ’’ مسلح افواج ایک جدید جمہوریت میں غیر سیاسی اور غیرجانبدار فریق ہوتی ہیں‘‘۔

اس نے یہ حکم بی جے پی کے بل بورڈ ز میں وزیراعظم مودی اور جماعت کے صدر امیت شاہ کے ساتھ پاکستان میں گرفتاری کے بعد رہائی پانے والے بھارتی فضائیہ کے پائیلٹ ابھی نندن کی تصاویر جگہ جگہ آویزاں ہونے کے بعد جاری کیا تھا۔ابھی نندن کے طیارے کو پاکستانی فضائیہ نے اپنے ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر مار گرایا تھا اور انھیں گرفتار کر لیا تھا ۔ تاہم تین روز کے بعد ہی وزیراعظم عمران خان نے انھیں رہا کرکے بھارت کے حوالے کردیا تھا۔

دوسری جانب وزیراعظم مودی کے مد مقابل نہرو خاندان کے سیاسی وارث 48 سالہ راہول گاندھی ہیں۔وہ ملک کی بانی جماعت کانگریس کی قیادت کررہے ہیں اور منتشر حزبِ اختلاف کی دوسری جماعتوں کو کانگریس کے زیر قیادت اکٹھا کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ ان کے بہ قول ’ مودی کے خطرے‘ کا مقابلہ کیا جاسکے۔وہ دسمبر میں تین ریاستوں میں ملنے والی انتخابی کامیابی کا لوک سبھا (عوامی اسمبلی) کے انتخابات میں بھی اعادہ چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں