نیوزی لینڈ میں نمازیوں کے قتل عام کی ویڈیو بار بار دکھانے پر ایردوآن کو تنقید کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے گذشتہ جمعہ کو نیوزی لینڈ میں ایک دہشت گرد کے حملے میں 50 نمازیوں کی شہادت کی وڈیو بار بار دکھانے پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ترک اپوزیشن رہ نمائوں کا کہنا ہے کہ صدر ایردوآن کا کرائیسٹ چرچ میں نمازیوں کے قتل عام کی ویڈیو کو اپنے انتخابی جلسوں کے دوران لوگوں کو دکھانا شرمناک اقدام ہے۔

خیال رہے کہ ترک صر نے ہفتے اور توار کے روز بلدیاتی انتخابات کے لیے ہونے والے جلسوں کے دوران نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملوں کی فوٹیج متعدد بار دکھا کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔

یہ اشتعال انگیز ویڈیو'فیس بک' اور 'ٹویٹر' پر آسٹریلوی دہشت گرد برنٹن ٹارنٹ نے پوسٹ کی تھی۔ اس نے مساجد میں نمازیوں کو شہید کرنے کے وحشیانہ جرم کی براہ راست فوٹیج فیس بک اور ٹویٹر پر نشر کی تھی۔

ترکی کی اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ صدر ایردوآن نیوزی لینڈ کے واقعے کو 31 مارچ کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے حصول کے لیے استعمال کررہےہیں۔

ترکی کے اپوزیشن رہ نما عبداللہ بوز کورٹ نے ٹویٹر پر پوسٹ ایک بیان میں لکھا کہ صدر ایردوآن کا نیوزی لینڈ میں نمازیوں کی شہادت کے واقعے کی فوٹیج کو انتخابی جلسوں میں دکھانا شرمناک ہے۔ صدر ایروآن شہداء نیوزی لینڈ کے خون کو اپنا ووٹ بنک بڑھانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ جمعہ کے روز نیوزی لینڈ کے شہر کرائیسٹ چرچ شہر کی دو مساجد میں ایک دہشت گرد نے اندھا دھند فائرنگ کرکے 50 نمازی شہید اور 50 زخمی کردیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں