.

تیونس :امیرِ قطر عرب لیگ کے سربراہ اجلاس سے اچانک اٹھ کر چل دیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی تیونس میں اتوار کو منعقدہ عرب لیگ کے سربراہ اجلاس سے اچانک اٹھ کر چلے گئے ہیں۔

امیرِ قطر نے اس سربراہ اجلاس میں تقریر بھی نہیں کی ۔ جونہی میزبان صدر الباجی قاید السبسی نے اپنی تقریر مکمل کی اور عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے اپنی تقریر شروع کی تو شیخ تمیم کانفرنس ہال سے اٹھ کر چل دیے اور وہاں سے وہ سیدھے ہوائی اڈے کی جانب چلے گئے۔

تیونس میں متعیّن قطر کے سفیر سعد بن ناصر حمیدی نے تیونس افریقی پریس ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امیر قطر کی اگلی منزل کے بارے میں انھیں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں گئے ہیں۔

عرب لیگ کا یہ پہلا سربراہ اجلاس ہے جس میں شیخ تمیم نے سعودی فرماں روا شاہ سلمان اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ شرکت کی ہے ۔ مصر ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے جون 2017ء سے قطر کا بائیکاٹ کردیا تھا اور ا س سے ہر طرح کے مواصلاتی رابطے ،سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ ان چاروں ممالک نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا جبکہ قطر نے اس الزام کی تردید کی تھی۔اس بائیکاٹ کے بعد سے قطر ان چاروں ممالک کے ساتھ مشترکہ اجلاسوں یا کانفرنسوں میں شرکت سے گریز کرتا رہا ہے۔

دریں اثناء احمد ابوالغیط نے اپنی تقریر میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا شکریہ ادا کیا اور عرب ممالک میں مسلح ملیشیاؤں کی تخریبی کارروائیوں کی مذمت کی۔انھوں نے کہا کہ ایران اور ترکی کی متعدد عرب ممالک میں مداخلت سے وہاں بحرانوں کو تقویت ہی ملی ہے اور ان کے حل میں کوئی مدد نہیں مل سکی ہے۔