عراق سے تعلقات کے فروغ کے لیے بغداد میں سعودی عرب کا نیا قونصل خانہ قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب نے عراق کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے لیے بغداد میں اپنا ایک نیا قونصل خانہ قائم کیا ہے۔ عراقی وزیر خارجہ محمد علی الحکیم اور سعودی عرب کے وزیر تجارت اور سرمایہ کاری ڈاکٹر ماجد بن عبداللہ القصبی نے سعودی ،عراقی رابطہ کونسل کے ارکان کی موجودگی میں جمعرات کو اس نئے سعودی قونصل خانے کا افتتاح کیا ہے۔

سعودی ،عراقی رابطہ کونسل کے سربراہ سعودی وزیر تجارت ہی ہیں۔سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کے فروغ کے لیے بدھ اور جمعرات کو عراق کا دورہ کیا ہے۔ وفد میں سات وزراء اور سعودی عرب کی بڑی نجی کمپنیوں کے سربراہان اور دوسرے عہدے دار شامل تھے۔

ڈاکٹر ماجد القصبی نے افتتاحی تقریب میں بتایا ہے کہ عراق کے تین اور شہروں میں بھی سعودی عرب کے قونصل خانے قائم کیے جائیں گے۔عراق کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قونصل خانے کا قیام حجاز ِمقدس میں حج ، عمرے اور مقدس مقامات کی زیارات کے لیے جانے کے خواہاں عراقی شہریوں کو قونصلر خدمات کی فراہمی کے لیے دونوں ممالک کی دلچسپی کا مظہر ہے۔ مزید برآں اس سے دونوں ممالک کے درمیان مزدوروں کی نقل وحرکت اور تجارت کے تبادلے میں بھی مدد ملے گی۔

دریں اثناء سعودی عراقی رابطہ کونسل نے اپنے دوسرے اجلاس میں دوطرفہ تعاون اور نجی شعبے میں شراکت داری کے فروغ کے لیے مختلف امور کا جائزہ لیا ہے۔ڈاکٹر ماجد القصبی اور عراق کے نائب وزیراعظم اور وزیر توانائی ثامر الغضبان نے اپنے اپنے ملک کی جانب سے کونسل کے اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں اعلیٰ سعودی اور عراقی حکام شریک تھے۔

سعودی عرب کے اعلیٰ سطح کے اقتصادی وفد نے عراقی صدر برہم صالح اور وزیراعظم عادل عبدالمہدی سے بھی ملاقات کی اور ان سے دونوں ملکوں کے باہمی مفاد میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیا ل کیا۔

سعودی وفد نے جمعرات کو بغداد میں مصروف دن گزارا اور وفد میں شامل سعودی وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے عراقی دارالحکومت کے تاریخی اور ثقافتی مقامات کی سیر کی۔عراق کے وزیر ثقافت وسیاحت ڈاکٹر عبدالعامر الہمدانی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انھوں نے شاہراہ متنبی ، قشلہ ، عباسی محل اور دوسرے متعدد تاریخی مقامات دیکھے۔عراقی وزیر نے انھیں ان کی تاریخی اہمیت کے بارے میں بتایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں