.

سوڈان : صدر بشیر کے خلاف احتجاج جاری ، پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 13 مظاہرین ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں صدر عمر حسن البشیر کے خلاف دارالحکومت خرطوم میں فوج کے ہیڈکوارٹرز کے باہر احتجاجی دھرنا جاری ہے ، مظاہرین صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مزید تیرہ مظاہرین ہلاک ہوگئے ہیں۔

صدر بشیر کے خلاف مظاہروں کو منظم کرنے والی پیشہ ور تنظیم کی ترجمان سارہ عبدالجلیل نے کہا ہے کہ منگل کی صبح مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ، ربر کی گولیاں چلائی ہیں اور براہ راست فائرنگ کی ہے۔

کارکنان کے مطابق ہفتے کے روز سے وزارتِ دفاع کے صدر دفاتر کے باہر جاری احتجاجی دھرنے کے بعد سکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپوں میں 21 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں پانچ فوجی بھی شامل ہیں۔

سوڈانی شہر ی صدر عمر البشیر کے خلاف دسمبر سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ اس تحریک کے لیڈروں نے سوموار کو پہلی مرتبہ فوج سے کہا ہے کہ وہ صدر کی حمایت سے دستبردار ہوجائے اور تبدیلی کے لیے ان کے نعرے کی حمایت کرے۔انھوں نے منگل کے روز فوجی قیادت سے مظاہرین کے نمایندوں کے ساتھ مل بیٹھنے کی دعوت دی تھی تاکہ ملک میں عبوری دور کے لیے انتظامات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جاسکے۔

آج ہی ناروے ، برطانیہ اور امریکا نے ایک مشترکہ بیان میں مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور سوڈانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی انتقالِ اقتدار کے لیے ایک قابل عمل منصوبہ پیش کریں۔انھوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر ملک میں بڑے عدم استحکام کا خطرہ برقرار رہے گا۔اس لیے سوڈانی قیادت کی یہ بھاری ذمے داری ہے کہ وہ ایسے کسی نتیجے سے بچاؤ کی کوشش کرے ۔

سوڈانی صدر کے خلاف گذشتہ چار ماہ سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ستر سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔سوڈانی حکومت نے چند ہفتے قبل 32 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی لیکن اس کے بعد سے اس نے ہلاکتوں کے نئے اعداد وشمار جاری نہیں کیے ہیں۔