.

سویڈن : جگر کے انفیکشن کی وبا کا پھیلاؤ ، موردِ الزام "ایرانی کھجور "

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویڈن میں "نیشنل فوڈ ایجنسی" نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں پھیلے جگر کے انفیکشن کی وبا کا مبینہ سبب ایران سے درآمد شدہ تازہ کھجوریں ہیں۔ رواں سال فروری کے اختتام کے بعد سے اب تک 9 افراد مذکورہ مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

سویڈن کے اخبار Aftonbladet نے ہفتے کے روز بتایا کہ نیشنل فوڈ ایجنسی نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ تمام متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران سے درآمد شدہ تازہ کھجوریں کھائی تھیں۔

ایجنسی نے مزید کہا ہے کہ "جگر کے انفیکشن میں مبتلا ہونے والے افراد کا تعلق ملک کے مختلف حصوں سے ہے۔ اس سلسلے میں آخری کیس کی اطلاع 16 اپریل کو ملی تھی۔ تاہم ابھی اس بات کی تصدیق کرنا ممکن نہیں کہ اب اس وبا کا پھیلاؤ رک گیا ہے"۔

نیشنل فوڈ ایجنسی کے عہدے دار میٹس لینڈبلاد نے اخباری بیان میں کہا کہ "مریض کے مبتلا ہونے سے قبل وبا کے ذریعے کو نظر میں رکھنا دشوار امر ہے اور اس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کھجور کے کسی ڈبے کے چھوٹے سے حصے میں وبائی مرض کی موجودگی کا پتہ چل جائے جب کہ بقیہ ڈبہ اس سے پاک ہو"۔

اقوام متحدہ کے زیر انتظام عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ جگر کا وبائی انفیکشن ایک وائرس ہے جو جگر کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے سبب جنم لینے والی کیفیات مختلف ہوتی ہیں جن کا آسانی سے علاج بھی ممکن ہے اور بعض مرتبہ اس کا نتیجہ مریض کی موت کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔

مذکورہ انفیکشن کا وائرس آلودہ کھانے یا پانی سے یا پھر اس مرض میں مبتلا شخص کے ساتھ براہ راست ملاپ کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔

جگر کے انفیکشن کی وبا کے لیے محفوظ اور مؤثر ویکسین دستیاب ہے۔