بھارت : عام انتخابات کا پانچواں مرحلہ ،سات ریاستوں میں پولنگ
بھارت میں عا م انتخابات کے پانچویں مرحلے میں آج سوموار کو سات شمالی ریاستوں میں پولنگ ہورہی ہے اور لوک سبھا کی 51 نشستوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ ان ساتوں ریاستوں میں آٹھ کروڑ ستر لاکھ سے زیادہ ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔
پولنگ کے اس مرحلے میں بھارت کی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست اُتر پردیش میں واقع دو حلقے ملکی اور غیرملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز ہیں۔حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کے صدر راہول گاندھی امیٹھی سے چوتھی مرتبہ لوک سبھا کی نشست کے لیے امیدوار ہیں۔وہ بھارت کے سابق مقتول وزیراعظم راجیو گاندھی کے بیٹے ہیں۔ ان کی والدہ سونیا گاندھی امیٹھی کے پڑوس میں واقع ضلع رائے بریلی سے لوک سبھا کی نشست کا انتخاب لڑرہی ہیں ۔ یہ توقع کی جارہی ہے کہ دونوں ماں بیٹا اپنی اپنی نشستیں جیت جائیں گے۔
آج جن سات شمالی ریاستوں میں لوک سبھا کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں، ان میں بھارت کے زیر انتظام ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر بھی شامل ہے۔اس کے دو اضلاع شوپیاں اور پلوامہ میں پولنگ ہورہی ہے لیکن کل جماعتی حریت کانفرنس اور مشترکہ مزاحمتی قیادت کے بائیکاٹ کی اپیل کے بعد ان دونوں اضلاع میں مکمل شٹ ڈاؤن ہے اور اکا دُکا ووٹر ہی پولنگ مراکز پر نظر آئے ہیں۔
اُترپردیش میں ہندو قوم پرستوں نے بڑے جارحانہ انداز میں اپنی انتخابی مہم چلائی ہے ۔اسی ریاست کے شہر ایودھیا میں انتہا پسند ہندو سولھویں صدی میں تعمیر کردہ مسجد بابری کی جگہ رام مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے ستائیس سال قبل اس تاریخی مسجد کو شہید کردیا تھا اور تب سے اس مسجد کی جگہ کے تنازع پر انتہاپسند ہندوؤں اور مسلم اقلیت کے درمیان قانونی جنگ جاری ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کی اتحادی ویشوا ہندو پریشد کے ایودھیا میں ترجمان شرد شرما کا کہنا ہے کہ ’’ یہاں سب سے بڑا مسئلہ رام مندر ،قومیت پرستی اور ملک کی اقتصادی ترقی ہے‘‘۔
بھارت میں سات مراحل میں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز 11 اپریل کو ہوا تھا۔ 12 مئی کو چھٹے اور 19 مئی کو آخری مرحلے کے لیے پولنگ ہوگی ۔ 23 مئی کو لوک سبھا کے انتخاب کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی ہوگی اور اسی روز نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں قریباً 90 کروڑ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ موجودہ حکمراں بھارت جنتا پارٹی کو توقع ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف حالیہ تنازع میں سخت موقف اختیار کرنے پر اپنی مقبولیت برقرار رکھے گی اور عام انتخابات میں دوبارہ کامیابی حاصل کر لے گی لیکن اس کو دسمبر میں تین ریاستوں میں منعقدہ انتخابات میں کانگریس کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔
وزیراعظم نریندر مودی نے انتخابی مہم کے دوران میں پاکستان مخالف تندوتیز بیانات جاری کیے ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ تنازع کے تناظر میں نریندر مودی اور بی جے پی پر قومی سلامتی کے امور کو ووٹروں پر اثر انداز ہونے کے لیے ہاتھ میں لینے کے الزامات عاید کررہی ہیں۔