.

بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینے کا امریکی فیصلہ عالمی عدالت انصاف میں چیلنج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی حکومت نےامریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکوم تسلیم کیے جانے کا فیصلہ ہیگ میں قائم عالمی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

فلسطینی وزارت خارجہ کی طرف سےبدھ کےروز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ یروشلم کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کا امریکی فیصلہ اشتعال انگیز اقدام، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے 14 مئی 2018ء کواسرائیل میں امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے ساتھ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا تھا۔ ان کے اس فیصلے پرعالمی سطح پرشدید رد عمل سامنے آیا۔ فلسطینی عوام اور حکومت دونوں نے امریکی فیصلے کو یک طرفہ اور اشتعال انگیز قراردے کر مسترد کردیا تھا۔

فلسطینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس 29 ستمبر کو فلسطین نے ہیگ میں القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینےکے امریکی فیصلے کے خلاف درخواست دی تھی۔ اس درخواست میں امریکا کو فریق بنایا گیا ہے۔ 15 مئی سے 15 نومبر 2019ء تک امریکا فلسطینی درخواست کے خلاف عالمی عدالت جواب دعویٰ پیش کرے گا۔
فلسطینیوں‌کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں امریکی فیصلے کوچیلنج کرنےکا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب فلسطینی اپنے ملک پر اسرائیلی ریاست کے قیام اور یہودیوں کے غاصبانہ قبضے کی 71 ویں برسی منا رہے ہیں۔ کل 15 مئی کوفلسطین بھر میں'یوم النکبہ' کے حوالے سے ریلیاں نکالی گئیں اور جلسے جلوس منعقد کیے گئے۔