.

لیبیا : کمانڈر خلیفہ حفتر کا طرابلس میں ملیشیاؤں کی شکست تک لڑائی جاری رکھنے کاعزم

وزیراعظم فائزالسراج کے زیر قیادت قومی اتحاد کی حکومت پر مسلح ملیشیاؤں اور انتہا پسند گروپوں کی سرپرستی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی خود ساختہ قومی فوج کے کمانڈر خلیفہ حفتر نے دارالحکومت طرابلس میں مسلح ملیشیاؤں کی شکست یا ان کے ہتھیار ڈالنے تک لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

خلیفہ حفتر نے فرانسیسی اخبار ’جرنل دی دمانشی‘ سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ وہ دارالحکومت میں نجی ملیشیاؤں اور انتہا پسند گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔ان کے بہ قول ان گروپوں نے وزیراعظم فائزالسراج کے زیر قیادت قومی اتحاد کی حکومت کی سرپرستی میں اثر ورسوخ حاصل کر لیا ہے۔

اتوار کو شائع شدہ اس انٹرویو میں انھوں نے کہا:’’ یقینی طور پر بحران کا ایک سیاسی حل ہی ان کا مقصد ہے لیکن سیاست کی جانب لوٹنے سے قبل ہمیں ملیشیاؤں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور طرابلس میں سکیورٹی کا مسئلہ درپیش ہے‘‘۔

خلیفہ حفتر نے طرابلس میں موجود جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے کی صورت میں عام معافی کی پیش کش کی ہے اور کہا ہے کہ انھیں محفوظ گھروں کو لوٹنے کے لیے محفوظ راستہ دیا جائے گا اور مناسب انداز میں انھیں گھروں کو بھیجا جائے گا۔

انھوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے لیبیا غسان سلامہ کو بھی ان کے ایک حالیہ بیان پر آڑے ہاتھوں لیا ہے۔انھوں نے اگلے روز خبردار کیا تھا کہ لیبیا جاری تنازع کی وجہ سے ’’ خودکشی کا ارتکاب ‘‘کررہا ہے اور اس تنازع میں چھے سے دس ریاستیں ملوّث ہیں۔

خلیفہ حفتر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’غسان سلامہ غیر ذمے دارانہ بیانات جاری کررہے ہیں۔وہ اس سے پہلے تو ایسے نہیں تھے۔ اب وہ تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں۔وہ ایک غیر جانبدار اور دیانت دار ثالث کار کے بجائے متعصب بن چکے ہیں‘‘۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق خلیفہ حفتر کی فوج کی اپریل میں طرابلس پر چڑھائی کے بعد سے 75 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔لڑائی میں 510 افراد مارے گئے ہیں اور 24 سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ایک لاکھ سے زیادہ شہریوں کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ متحارب گروپوں کے درمیان طرابلس کے نواحی علاقوں میں جاری لڑائی میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔