.

امریکی آشیرباد کے سائے میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی حد بندی کے مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطی کے امور سے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے معاون ڈیوڈ سیٹر فیلڈ لبنان اور اسرائیل کے درمیان متنازع سرحدوں کے معاملے پر بات چیت کے لیے دونوں ملکوں کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پھر سے بیروت لوٹ آئے ہیں۔ یہاں وہ متعدد لبنانی عہدے داران سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان میں سرفہرست لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری اور وزیر خارجہ جبران باسیل ہیں۔ سیٹر فیلڈ اسرائیل کی جانب سے "مثبت" جواب لے کر آئے ہیں جس کا اظہار اسرائیلی وزیر توانائی یوفال اشٹائنٹز نے بھی کیا تھا۔ یوفال کا کہنا تھا کہ "ان کا ملک سمندری سرحدوں کا تنازع حل کرنے کے لیے امریکی وساطت سے لبنان کے ساتھ بات چیت کرنے پر کشادہ موقف رکھتا ہے۔ یہ تنازع بحیرہ روم میں تیل اور گیس کی تلاش کے عمل پر اثر انداز ہو رہا ہے"۔

لبنان میں با خبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ سرحدوں کے حوالے سے مشاورت مثبت سمت جا رہی ہے۔ دو ہفتے قبل لبنان کے صدر میشیل عون نے ایک خط بیروت میں امریکی خاتون سفیر الزبتھ رچرڈ کے حوالے کیا تھا۔ اس خط میں پانچ نکات شامل تھے جن میں بنیادی طور پر سمندری اور زمینی سرحدوں کی حد بندی پر توجہ مرکوز کی گئی۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ڈیوڈ سیٹرفیلڈ جو ماضی میں بیروت میں بطور امریکی سفیر کام کر چکے ہیں ،،، ان کے پاس موجود حل میں "(اسرائیل کے قبضے میں موجود) شبعا فارمز، کفر شوبا اور الغجر کے علاقوں کو موجودہ سرحدی حد بندی سے باہر رکھا گیا ہے اور مذاکرات میں توجہ کا مرکز جون 2006 کی جنگ کے بعد کھینچی جانے والی "بلیو لائن" سے 1949 کی جنگ بندی کی سرحد کی جانب منتقلی ہو گا"۔

لبنانی با خبر ذرائع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 22 مارچ کو بیروت کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر لبنانی ذمے داران نے پومپیو کو آگاہ کیا کہ اسرائیل کے ساتھ سرحدی تنازع ختم کرنے کے لیے ہونے والے کوئی بھی مذاکرات اقوام متحدہ کی سرپرستی سے باہر نہیں جانا چاہئیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان وسطی سرحد (جس کا رقبہ 5 مربع کلو میٹر کے قریب ہے) پر 13 اختلافی نکات ،،، اسرائیل کی جانب سے لبنانی موقف پر آمادگی کے بعد پس پشت چلے گئے ہیں اور یہ لبنانی جانب کی کامیابی ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی کانگرس میں خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ ایلیوٹ اینجل نے بیروت کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے انہیں آگاہ کیا کہ "لبنان اسرائیل کے ساتھ جنگ کے لیے کوشاں نہیں ہے مگر وہ خشی اور سمندر میں اپنی خود مختاری اور حقوق سے ہر گز دست بردار نہیں ہو گا"۔

اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے باوجود لبنان اپنے علاقائی پانی میں تیل اور گیس کی تلاش شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی وساطت اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں لبنان اسرائیل مذاکرات جلد شروع ہوں گے۔ اس سہ فریقی مذاکرات کی میز پر اسرائیلی اور لبنانی افسران اکٹھا ہوں گے اور الناقورہ شہر میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فورس "یونیفل" اس بات چیت کی سرپرستی کرے گی۔

سال 2006 کی جنگ کے اختتام کے بعد سے لبنان کے جنوبی علاقے الناقورہ میں امن فوج کے ہیڈکوارٹر میں باقاعدہ طور پر سہ فریقی اجلاسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ فریقین کے درمیان تنازع کو سنبھالنے اور ان کے درمیان اعتماد سازی کے سلسلے میں بنیادی میکانزم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

لبنانی ذرائع نے واضح کیا کہ اجلاس میں تینوں فریقوں کے افسران کی شمولیت کے علاوہ تیل کے ماہرین بھی شرکت کریں گے تا کہ مذاکرات میں آسانی پیدا کر کے ان کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔ اس دوران سرحدی سمندری تنازعات کے امور کے امریکی ماہر بطور وساطت کار موجود ہوں گے۔