.

اسلامی تعاون تنظیم کی نصف صدی پوری ہونے پر مکہ مکرمہ میں تاریخی سربراہ کانفرنس کا انعقاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تعاون تنظیم ( سابق نام اسلامی کانفرنس تنظیم ، او آئی سی) کی نصف صدی پوری ہونے پر چودھواں تاریخی اسلامی سربراہ اجلاس مکہ مکرمہ میں 31 مئی کو منعقد ہورہا ہے۔سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اس اجلاس کی صدارت کریں گے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس ہر تین سال کے وقفے کے بعد منعقد ہوتے ہیں۔اس مرتبہ اسلامی سربراہ اجلاس ( مکہ سمٹ) سے ایک روز پہلے عرب لیگ اور خلیج تعاون کو نسل( جی سی سی) کے دو ہنگامی سربراہ اجلاس بھی ہورہے ہیں۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایران سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں یہ اجلاس طلب کیے ہیں۔

اسلامی سربراہ کانفرنس: مختصر تاریخ

25 ستمبر 1969ء کو چوبیس مسلم اکثریتی ممالک کے نمایندوں کی ایک کانفرنس مراکش کے دارالحکومت رباط میں منعقد ہوئی تھی۔ یہ کانفرنس مقبوضہ بیت المقدس میں مسجدالاقصیٰ کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے پر طلب کی گئی تھی۔اس میں اسلامی کانفرنس تنظیم (اب اسلامی تعاون تنظیم ) کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اسلامی ممالک کی نمایندہ اس تنظیم نے بعد میں اپنا باقاعدہ ایک تنظیمی ڈھانچا تشکیل دیا تھا۔ سیکریٹری جنرل اس تنظیم کا سربراہ ہوتا ہےاور اسی کے زیر قیادت جدہ میں قائم اس کا سیکریٹریٹ کام کرتا ہے۔اس کو قائم ہوئے پچاس سال ہونے کو آئے ہیں اور اس کے سربراہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہورہے ہیں۔

او آئی سی کی مرکزی کونسل رکن اسلامی ممالک کے بادشاہوں ، سربراہان ریاست و حکومت پر مشتمل ہے۔تنظیم کے منشور کے مطابق سربراہ اجلاس ہر تین سال کے بعد باری باری رکن ممالک کے شہروں میں منعقد ہوتے ہیں۔ان میں دنیا بھر میں مسلمانوں کو درپیش مسائل وتنازعات پر غور کیا جاتا ہے اور ان کے بارے میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔اہم متنازعہ امور کے بارے میں ورکنگ گروپ تشکیل دیے جاتے ہیں۔

ایران اور اسلامی سربراہ کانفرنس

تیرھویں اسلامی سربراہ کانفرنس ترکی کے شہر استنبول میں 2016ء میں منعقد ہوئی تھی ۔اس کے اختتامی اعلامیے میں ایران اور اسلامی ممالک کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی تعلقات کے قیام پر زور دیا گیا تھا اور خاص طور پر طاقت استعمال کرنے کی دھمکیوں سے گریز کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔

ایران واحد ملک تھا جس کو باقی چھپن ممالک نے اس اعلامیے میں مخاطب کرکے یہ کہا تھا کہ وہ اپنے پاس پڑوس میں واقع خطے کے ممالک کے ساتھ ’’ اچھے ہمسائیگی کے تعلقات ‘‘استوار کرے۔تاہم ایران نے اس بیان پر کان تو نہیں دھرے اور اس نے اس گذشتہ کانفرنس اور جمعہ کو منعقد ہونے والی آیندہ اسلامی سربراہ کانفرنس کے درمیانی عرصے میں اپنی تخریبی سرگرمیوں کا سلسلہ تین ممالک یمن ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تک پھیلا دیا ہے۔

اس اعلامیے میں ایران کی دوسرے رکن ممالک بحرین ، یمن ، شام اور صومالیہ کے داخلی امور میں مداخلت اور دہشت گردی کی مسلسل حمایت پر مذمت کی گئی تھی۔

ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی آواز

او آئی سی اقوام متحدہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی بین الحکومتی اور بین الاقوامی تنظیم ہے۔دنیا کے چار براعظموں سے تعلق رکھنے والے ستاون ممالک اس کے ارکان ہیں۔یہ دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی آواز ہے۔

1970ء میں جدہ میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی پہلی کانفرنس منعقد ہوئی تھی ۔اسی میں جدہ ہی میں تنظیم کے مستقل سیکریٹریٹ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔او آئی سی کے سیکریٹر ی جنرل کی سربراہی میں یہ سیکریٹریٹ اسلامی ممالک کے درمیان ر وابط اور ابلاغ وترسیل کا کام کرتا ہے۔

1969ء سے 2016ء تک تیرہ اسلامی سربراہ کانفرنسیں منعقد ہوئی تھیں اور سات ہنگامی سربراہ اجلاس اسلامی دنیا کے مختلف ممالک، مراکش ، سعودی عرب ، انڈونیشیا ، کویت ، مصر ، پاکستان اور ترکی کے دارالحکومتوں میں طلب کیے گئے تھے۔

ان کانفرنسوں میں ہمیشہ فلسطینی نصب العین ( کاز) ، مسئلہ کشمیر ،صومالیہ ، جیبوتی اور دوسرے غریب مسلم ممالک اور غیر مسلم ممالک میں مقیم مقہور مسلم اقلیتوں کی حمایت کی جاتی ہے اور ان کی سیاسی ، سفارتی اور مالی امداد کے لیے عملی اقدامات بھی تجویز کیے جاتے ہیں اور ان کے حق میں قراردادیں منظور کی جاتی ہیں۔

اسلامی سربراہ کانفرنسوں کی تاریخ میں دو مواقع پر تنظیم کے دو رکن ممالک عراق اور ایران کی مذمت میں قراردادیں منظور کی گئی تھیں ۔1991ء میں عراق کے صدر صدام حسین کی فوجوں کی پڑوسی ملک کویت پر چڑھائی کی مذمت کی گئی تھی ۔اس کے علاوہ عراق کی سعودی عرب کے خلاف ’’سفاکانہ جارحیت‘‘ کی بھی مذمت کی گئی تھی۔