.

’’تیل کے بعد قدرتی گیس کے شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کا سعودی عزم قابل تعریف ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے ایک مؤقر اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ تیل کے وسیع ذخائر سے مالا مال سعودی مملکت اب قدرتی گیس کے میدان میں دنیا کی سب سے بڑی تنصیبات لگانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اب تک مملکت کی آمدنی کا بڑا انحصار تیل اور پٹرولیم مصنوعات پر رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب تیل کے بعد قدرتی گیس کے شعبے میں قدم رکھنے جا رہا ہے تاکہ قدرت کے اس بیش بہا خزانے کے ذریعے مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔

فرانسیسی روزنامہ 'ایل اوپینین' نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں کہا ہے ہے کہ سعودی عرب دنیا کی سب سے بڑی ’’گیس ایمپائر‘‘ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے امریکا سے قدرتی گیس کی خریداری کا معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب آئندہ دس برسوں کے دوران قدرتی گیس کے شعبے میں ایک کھرب 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ توقع ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب اب قدرتی گیس کے شعبے میں بھی اپنی برتری ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

اخبار لکھتا ہے: ’’سعودی عرب دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس گیس ایمپائر کے قیام کا مقصد مقامی صنعت کو فروغ دینا، صنعتی سیکٹر، دھات سازی اور ٹکنالوجی کے منصوبوں سے بہتر طریقے سے فائدہ اٹھانا ہے۔ اب تک سعودی عرب خام تیل سے بجلی پیدا کرنے منصوبوں پرعمل پیرا رہا ہے مگر اب سعودی عرب کی حکومت کی حکومت بجلی پیدا کرنے کے لیے تیل جلانے متبادل توانائی کے استعمال کے لیے کوشاں ہے۔

پچاس لاکھ ٹن ایل این جی

امریکی اخبار'وال اسٹریٹ جرنل' کے مطابق سعودی عرب اور امریکی پٹرولیم کمپنی 'سیمپرا انرجی' کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت امریکا اس کمپنی سے گیس خرید کرے گا۔ منصوبے کے تحت سعودی عرب قدرتی گیس کے خریداروں میں قطر اور امریکا کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔

سیمپرا انرجی اور سعودیہ کے درمیان سمجھوتے کی مدت 20 سال ہے۔ اس عرصے میں سعودی پٹرولیم کمپنی' آرامکو' امریکی کمپنی سے سالانہ 50 لاکھ ٹن ایل این جی خرید کرے گی۔ اپنے حجم کے اعتبار سے سنہ 2013ء کے بعد قدرتی گیس کے حوالے سے یہ دنیا کی سب سے بڑی ڈیل قرار دی جاتی ہے۔

امریک کمپنی سے قدرتی گیس کی خریداری کا یہ معاہدہ عالمی سطح پر گیس کی مارکیٹنگ اور پیداوار کے سعودی منصوبوں کا حصہ ہے۔

سعودی کمپنی 'آرامکو' نے مملکت کے شمال طریف شہر میں نسبتا ایک چھوٹے گیس منصوبے پر کام شروع کیا ہے تاہم موجودہ وقت کے اعتبار سے یہ اہم منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت سعودی عرب نے کامیابی کے ساتھ قدرتی گیس کی محدود پیمانے پر پیدوارا شروع کی ہے۔ اس مقصد کے لیے'کرشنگ' تکنیک استعمال کی گئی ہے۔ اس تکنیک نے امریکا میں آئل شیل کی پیداوار میں اہم کردار ادا کیا ہے مگر سعودی عرب میں اس ٹکنالوجی کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس گیس سے کان کنی کی تنصیبات چلانے کے استعمال کی جاتی ہے۔ اس اعتبار سے یہ سعودی عرب کے لیے یہ ایک اہم منصوبہ ہے جس کی مدد سے مملکت مستقبل میں متبادل توانائی کے میدان میں قدم رکھنے میں کامیاب ہو گا۔

سعودی عرب کے مشرقی علاقے جہاں تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں، آرامکو کمپنی نے بڑا گیس پیداواری فیلڈ لگانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ کمپنی نے بحر الاحمر میں زلزلوں سے متعلق کی جانے والی تحقیقات کی روشنی میں وہاں پر گیس کے ذخائر کی تلاش شروع کی ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں پر گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کےعزائم

سعودی عرب کی معیشت کے حوالے سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی عزائم اور ان کے منصوبے زبان زد عام ہیں۔ انہوں‌ نے 'ویژن 2030ء' پیش کرکے مملکت میں نئے صنعتی شہر قائم کرنے کا عزم کیا ہے۔ 'نیوم سٹی' اسی وژن کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب سنہ 2030ء تک قدرتی گیس کی پیداوار میں بھی خود کفیل ہونے کے لیے کوشاں‌ ہے اور یہ ولی عہد کے ویژن کا حصہ ہے۔

سعودی عرب کی سرمایہ کاری فائونڈیشن کے مطابق اقتصادی اصلاحات کہ بدولت سنہ 2030ء میں مملکت میں بجلی کی طلب میں اضافہ ہو جائے گا۔ آرمکو کے اندازوں کے مطابق 2030ء میں قدرتی گیس کی طلب میں 40 فی صد تک اضافہ ممکن ہے۔

امریکی کمپنی 'سیمپرا' اور سعودی عرب کے درمیان قدرتی گیس کے معاہدے سے مملکت کو الگ سے گیس کے پیداواری ذرائع کی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔