.

خلیج عُمان میں ٹینکروں پر حملوں میں ایران کے ملوّث ہونے کا غالب امکان ہے: امریکی عہدہ دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ایک عہدہ دار نے کہا ہے کہ خلیج عُمان میں دو تیل بردار جہازوں پر حملوں میں ایران کا ہاتھ کارفرما ہونے کا غالب امکان ہے۔

امریکا کے ایک دفاعی عہدہ دار نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایران پر الزام عاید کیا ہے کہ وہی ان دونوں حملوں کا موجب ہوسکتاہے۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق اس امریکی عہدہ دار نے ایران کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ اس نے خلیج عمان میں ان دونوں جہازوں کے عملہ کو حملے کے بعد بچالیا ہے۔امریکی عہدہ دار نے ایران کے اس دعوے کو ’’ننگا جھوٹ‘‘ قرار دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دو ٹینکروں مارشل آئس لینڈ کے پرچم بردار فرنٹ آلٹیر اور پاناما کے پرچم بردار کوکوکا کورجیئس پر جمعرات کو خلیج عمان میں آبنائے ہُرمز کے نزدیک بین الاقوامی پانیوں میں تخریبی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اس حملے کے بعد ان دونوں جہازوں سے عملہ کو باحفاظت نکال لیا گیا ہے ۔فرنٹ آلٹیر پر آتش گیر تیل ( نفتھا) اور کوکوکا کورجیئس پر میتھانول لدا ہوا تھا۔

ان میں اول الذکر جہاز ایک آبی بم ( تارپیڈو) سے ٹکرایا تھا جس کے بعد اس کو ایک حصے کو آگ لگ گئی تھی۔ موخرالذکر جہاز کے مینجر کا کہنا ہے کہ مشتبہ تخریبی حملے کےبعد اس میں لدے مواد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے اور وہ محفوظ رہا ہے۔ گذشتہ ماہ بھی اسی علاقے میں امارت فجیرہ کے نزدیک خلیج عمان میں چار تیل بردار بحری جہازوں پر بارودی سرنگوں سے حملہ کیا گیا تھا۔ان میں دو بحری جہاز سعودی عرب کے تھے۔ایک ناروے اور ایک متحدہ عرب امارات کا تھا۔