تیل بردار ٹینکروں پر حملوں کے بعد سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس
خلیج عُمَان میں گذشتہ روز دو تیل بردار جہازوں پر ہونے والے تخریب کار حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لیے جمعرات کی شام سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کے بند کمرہ میں ہونے والے ہنگامی اجلاس کو امریکا کی طرف سے خلیج عُمَان میں دو تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ امریکی سفارت کاروں نے تیل بردار جہازوں پر حملوں کے حوالے سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ میں امریکا کے قائم مقام سفیر نے کہا کہ امریکی حکومت متاثرہ جہازوں کی معاونت اور صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے مدد کو تیار ہے۔
اس موقع پر کویت کے وزیر خارجہ نے کہا کہ خلیج عُمَان میں دو تیل بردار جہازوں پر حملہ عالمی امن وسلامتی کے لیے خطرناک اشارہ ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل آنتونیو گوٹیرس نے جمعرات کے روز ایک بیان میں بحر عُمَان میں دو تیل بردار جہازوں پر حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے تیل بردار جہازوں پر حملوں کے بعد عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مشترکہ اجلاس کے دوران کہا کہ بحر عُمَان میں تیل بردار جہازوں پر حملہ خطے کی کشیدگی میں مزید اضافے کا موجب بن سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تجارتی بحری جہازوں پر حملے قابل مذمت ہیں اور ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کر کے ان میں ملوث عناصر کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری خلیج میں کسی بڑے تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
درایں اثناء امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خلیجِ عُمان میں دو تیل کے ٹینکروں پر ’بلا اشتعال حملوں‘ کا الزام ایران پر عائد کیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ امریکا نے یہ اندازہ ان حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی قسم سے متعلق انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر لگایا ہے۔ اس سے قبل ایران کے ایک سینئیر اہلکار نے بتایا تھا کہ جمعرات کی صبح ہونے والے دھماکوں سے ’ایران کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
خیال رہے کہ عُمَان کی خلیج میں دو تیل کے ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کے بعد عملے کے درجنوں افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔
جہاز ران کمپنیوں کا کہنا تھا کہ کوکوکا کریجیئس ٹینکر جو کہ جاپان کی ملکیت ہے پر موجود 21 افراد جبکہ فرنٹ الٹیئر، جو کہ ناروے کی ملکیت ہے، پر موجود 23 افراد کو نکال لیا گیا ہے۔ ریاستی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران نے 44 افراد کو 'حادثے' کے بعد بچا لیا۔ تاہم حادثے کی وجہ کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔