ہرمز مذاکرات میں پیشرفت، عمان کی میری ٹائم نیوی گیشن کے لیے علاقائی اتحاد کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سی بی ایس نیوز کو تین ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز اور دونوں فریقوں کے زیر انتظام آبی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کے سلسلے میں سلطنت عمان اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔

‘سی این این‘ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سلطنت عمان نے آبنائے ہرمز میں خدمات فراہم کرنے کے لیے ایک علاقائی اتحاد کی تشکیل کی تجویز پیش کی ہے جو آبنائے ملاکا میں لاگو تجربے کی طرز پر ہے، تاکہ نیوی گیشن اور لاجسٹکس سپورٹ کے شعبوں میں خطے کے ممالک کے درمیان تعاون ممکن بنایا جا سکے۔

ذرائع نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گذرنے والے بحری جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے رضاکارانہ ادائیگی کا نظام قائم کرنا بھی عُمانی تجویز میں شامل ہے، جس کا مقصد دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک میں نیوی گیشن کی نقل و حرکت کے انتظام کو بہتر بنانا اور سمندری خدمات کو محفوظ بنانا ہے۔

فنانشل ٹائمز نے خبر دی تھی کہ ایران اور سلطنت عمان کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں جن کا مقصد ایرانی اور عمانی پانیوں سے گذرنے والے جہازوں کی تعداد کا تعین کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں نیوی گیشن کو منظم کرنا تھا۔

ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں نے عالمی سمندری گزرگاہوں میں سے ایک میں نیوی گیشن کی سلامتی اور روانی کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کے فریم ورک کے تحت عمانی ساحلوں کے متوازی چلنے والے جنوبی کوریڈور اور ایرانی سمندری حدود کے اندر واقع کوریڈور کے درمیان جہازوں کی نقل و حرکت کی تقسیم کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا۔

باخبر ذرائع کے حوالے سے آکسیس ویب سائٹ نے بتایا تھا کہ ایران اور سلطنت عمان نے آبنائے ہرمز میں نیوی گیشن کی نقل و حرکت سے متعلق مذاکرات میں پیشرفت حاصل کی ہے۔

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب ایران نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے انتظام کے بارے میں سلطنت عمان کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں پیشرفت حاصل کر لی ہے۔ یہ تیل اور گیس کی تجارت کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے جس کے دونوں کناروں پر دونوں ممالک مشترکہ نگرانی کرتے ہیں۔

یہ مذاکرات سات جولائی کو امریکہ کی طرف سے ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں، جو آبنائے پر تہران کے کنٹرول کو ختم کرنے کی کوشش تھی اور یہ اس مفاہمت کی یادداشت کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان جون میں جنگ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھااور جس نے کچھ عرصے کے لیے خطے میں کشیدگی کو کم کر دیا تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ جمعہ اور ہفتہ کو تہران میں ایران اور سلطنت عمان کے وزرائے خارجہ کے نائبین کے درمیان تکنیکی مذاکرات کے کئی دور منعقد ہوئے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بات چیت آبنائے ہرمز میں نیوی گیشن کے محفوظ عبور کے انتظام کے لیے مشترکہ اصولوں اور انتظامی طریقہ کار پر مرکوز رہی، جس میں دونوں ساحلی ریاستوں کے خودمختار حقوق کا خیال رکھا گیا ہے۔

بقائی نے مذاکرات کو مفید قرار دیتے ہوئے پیشرفت کی تصدیق کی اور مزید کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تکنیکی اور سیاسی مشاورت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

بقائی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے نیوی گیشن کی نقل و حرکت کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

عمان اور ایران نے جون میں اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں نیوی گیشن کے مستقبل کے انتظام اور اس سے متعلقہ خدمات اور اخراجات کے بارے میں کسی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں، جس کی واشنطن نے سختی سے مخالفت کی ہے۔

اسی دوران مسقط نے عمانی پانیوں کے ذریعے جہازوں کے عبور کے لیے ایک راستہ مقرر کیا، جس سے تہران میں ناراضی پھیل گئی اور اس نے تدریجی سختی کے ساتھ جواب دیا۔

ایران نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ اس نے ضربوں کے تبادلے کے تقریباً دو ہفتے بعد کوئی امریکی حملے نہیں دیکھے ہیں۔

جبکہ پینٹاگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو حملے مکمل کرنے کا ایک منصوبہ پیش کیا، تاہم صدر نے اس کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کو ترجیح دی، جیسا کہ امریکی آکسیوس نے رپورٹ کیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک نئے انتظام پر بات چیت کے لیے ایک عمانی وفد کے تہران پہنچنے کے بعد ٹرمپ نے حملے روکنے کے احکامات جاری کر دیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں