.

یمنی حوثیوں کے شہریوں پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی: سعودی کابینہ

شاہ سلمان کے زیر صدارت اجلاس میں خطے میں جاری کشیدگی ، یمن میں ایران کی تخریبی سرگرمیوں سے پیدا شدہ صورت حال پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی کابینہ نے کہا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مملکت کے شہریوں پر بیلسٹک میزائلوں اور مسلح ڈرونز سے حملے کررہے ہیں۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت سعودی عرب کی وزارتی کونسل کا اجلاس منگل کے روز ساحلی شہر جدہ میں ہوا ۔ سعودی پریس ایجنسی ( ایس پی اے) کے مطابق کابینہ نے خطۂ خلیج میں ( ایران اور امریکا میں ) بڑھتی ہوئی کشیدگی ، یمن اور خطے بھر میں ایران کی تخریبی سرگرمیوں سے لاحق خطرات اور حوثی ملیشیا کے مملکت کے شہروں پر حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا ہے۔

وزارتی کونسل نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے سعودی عرب پر حالیہ حملوں سے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کو حقیقی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔اس کے پیش نظر سعودی عرب کو یمن میں قانونی حکومت کی حمایت میں اتحادی فورسز کی قیادت کا حق حاصل ہے اور ان مخالفانہ سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔

عرب اتحاد کی اطلاع کے مطابق سعودی عرب کے شہر ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 23 جون کو حوثیوں کے دہشت گردی کے حملے میں ایک شامی شہری جاں بحق اور مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے اکیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔ان میں تیرہ سعودی شہری تھے، چار کا تعلق بھارت سے تھا، دو زخمی مصری اور دو بنگلہ دیشی تھے۔