کانگرس کی منظوری کے بغیر بھی ایران پر فوجی ضرب لگا سکتا ہوں : ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ وہ کانگرس کی منظوری کے بغیر بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا قانونی اختیار رکھتے ہیں۔
انگریزی اخبار"The hill" کی جانب سے اس حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "جی ہاں، میرے پاس یہ اختیارات ہیں"۔ تاہم ساتھ ہی امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اس بات کو ترجیح دی ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی اطلاع کانگرس کو ضرور دیں۔
امریکی پارلیمنٹ کی خاتون اسپیکر نینسی پلوسی کے بیان کے حوالے سے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "میں اس رائے کی مخالفت کرتا ہوں اور غالبا اکثریت اس کی مخالفت ہی کرے گی"۔
پلوسی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی صدر کانگرس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا حق نہیں رکھتے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات کو دُہرایا کہ وہ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے کے قریب تھے مگر اس کا تناسب موزوں نہیں تھا۔ امریکی صدر نے باور کرایا کہ ان کی انتظامیہ جو کچھ بھی کرے گی اس کے بارے میں کانگرس کو مطلع کیا جائے گا۔
President Trump: I do not need congressional approval to strike Iran@HillTVLive https://t.co/rpyjB1Re1V pic.twitter.com/cHeQ8aYyVM
— The Hill (@thehill) June 25, 2019
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے سے متعلق ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ نئی پابندیوں کا مرکزی ہدف ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف نئی پابندیاں گذشتہ ہفتے امریکا کے ایک ڈرون کو مار گرانے کے ردعمل میں عائد کی جا رہی ہیں۔
ادھر امریکی وزیر خزانہ سٹیون منوچن کے مطابق پیر کے روز عائد کی جانے والی پابندیاں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو بھی لپیٹ میں لیں گی۔