متحدہ عرب امارات خلیج میں مزید کشیدگی نہیں چاہتا : وزیر خارجہ
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے کہا ہے کہ ’’ ہم آبی گذرگاہوں کو کھلا رکھنے کے حق میں ہیں اور خطۂ خلیج میں مزید کشیدگی نہیں چاہتے ہیں‘‘۔
وہ ماسکو میں بدھ کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے ساتھ نیوزکانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات ، ایران ، یمن اور شام کی صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔
یو اے ای کے ساحلی علاقوں کے نزدیک تیل بردار جہازوں پر حملوں کے بارے میں شیخ عبداللہ نے کہا کہ ’’ (ان کے ذمے داروں کے تعیّن کے لیے) واضح ، سائنسی اور قابل قبول شواہد درکار ہیں‘‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے اقوام متحدہ سے مل کر کام کرے گا۔
اس موقع پر سرگئی لاروف نے کہا کہ ’’روس دونوں متحارب ملکوں امریکا اور ایران کو ’’ مہذب‘‘ مکالمہ شروع کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا۔اس سے یقیناً الٹی میٹم ، پابندیوں اور بلیک میل کی پالیسی کا خاتمہ ہوگا‘‘۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے گذشتہ ماہ خلیج عآمان میں اپنی ساحلی حدود میں چار بحری جہازوں پر آبی بموں سے حملے کی تحقیقات کے نتائج اقوام متحدہ کو پیش کر دیے ہیں۔ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے ایک ’ریاستی اداکار‘ اس تخریبی کارروائی میں ملوث تھا لیکن یو اے ای نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کسی ملک کا نام نہیں لیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے پانیوں کے نزدیک 12 مئی کو چار تجارتی بحری جہاز وں کو ’تخریب کاری‘ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ان میں دو تیل بردار جہاز سعودی عرب کے تھے، ایک تجارتی بحری جہاز امارات اور ایک ناروے کا تھا۔ تخریب کاری کے حملے کا نشانہ بننے والا سعودی عرب کا ایک جہاز راس تنورہ کی بندرگاہ کی جانب جارہا تھا جہاں اس پر سعودی خام تیل لادا جانا تھا اور یہ تیل امریکا میں سعودی آرامکو کے صارفین کو بھیجا جانا تھا۔امریکا اور سعودی عرب نے ایران کو اس حملے کا ذمے دار قرار دیا تھا جبکہ ایران نے اس الزام کی تردید کی تھی۔