.

بڑوں کی’ جنگ‘ :پیچیدہ مسائل سے بھرپور ایجنڈے کے ساتھ جی 20 سمٹ کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گروپ ٹوئنٹی میں شامل ملکوں کے رہنماؤں کا اجلاس جاپان کے شہر اوساکا میں شروع ہو گیا۔ اس سال ہونے والا یہ اجلاس انتہائی تقسیم سے دوچار ہونے کا امکان ہے کیونکہ ایجنڈے میں شامل متعدد نکات پر رکن ملکوں کے ایک دوسرے سے شدید اختلافات ہیں۔

جاپانی وزیر اعظم شنزو ابیے نے جمعہ کے روز اجلاس کے افتتاح کیا۔ اجلاس میں تجارت، علاقائی وسیاسی کشیدگی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے متنازع امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

اجلاس کے افتتاح کے موقع پر ماحول قدرے دوستانہ نظر آیا۔ شریک رہنماؤں نے چہروں پر مسکراہٹ سجائے روایتی ’’فیملی فوٹو گراف‘‘ بنوائی۔

تصویر سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی رہنما ژی جن پنگ نے گروپ فوٹو سے پہلے مصافحہ کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ نقصان پہنچانے والی تجارتی جنگ بتائی جاتی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ موضوع سمٹ کے دیگر امور پر حاوی دکھائی دے گا۔

پہلے اجلاس میں شرکت کے موقع پر وہاں موجود فوٹو جرنلسٹ کے کیمروں نے فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں کو امریکی صدر کے کان میں سرگوشی کے منظر کو محفوظ کر لیا۔ ماکروں نے سرگوشی کے دوران اپنے منہ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا تاکہ دوسرے لوگ ان کی بات نہ سن سکیں۔

پہلے اجلاس میں ڈیجیٹل اکانومی کے موضوع پر گفتگو ہو گی۔ نیز پرائویسی اور سیکیورٹی پر تبادلہ خیال بھی آج کے پروگرام میں شامل ہے۔

جاپان کے رہنما شنزو ایبے کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹلائزیشن نے ہمارے معاشروں کے مختلف پہلوؤں اور معیشت کو بڑی تیزی سے تبدیل کیا ہے۔ عالمی سطح پر ڈیجیٹل اکانومی کے حوالے سے تبادلہ خیال دیکھ کر مجھے خوشی ہو رہی ہے۔

تاہم امریکا اور چین میں جاری کشیدگی کا اظہار سمٹ کے مجموعی ماحول پر اثر انداز ہوتا دیکھائی دے رہا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ چین کی ٹیلی کام کمپنی ’’ہواوے‘‘ کے بعض اقدامات سے امریکی سلامتی کو لاحق ہونے والے بعض خدشات کا ذکر اپنی تقریر میں کرنے والے ہیں۔

شنزو ابیے کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل تجارت کو فروغ دیتے وقت اپنے 5G نیٹ ورکس کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا چاہئے۔

امریکی انتظامیہ نے چینی کمپنی ’’ہواوے‘‘ پر پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ مبینہ طور پر چین تجارتی جنگ سے متعلق بات چیت سے پہلے امریکا سے ان پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ سربراہی اجلاس کے ماحول پر حاوی رہے گی۔ سمٹ کی سائیڈ لائنز پر ہفتے کے روز ہونے والے ژی-ٹرمپ مذاکرات کے بعد اس محاذ پر سیز فائر دیکھے جانے کی توقع ہے۔