.

امریکا کا سوڈان میں طوائف الملوکی کے خاتمے کے لیے شراکتِ اقتدار کی ڈیل کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے سوڈان میں جاری سیاسی بد امنی کے خاتمے کے لیے فوج اور سیاسی مظاہرین کے درمیان شراکتِ اقتدار کے سمجھوتے کا خیر مقدم کیا ہے۔

سوڈان کے حکمراں فوجی جرنیلوں اور احتجاجی تحریک کے لیڈروں کے درمیان دوروز کے مذاکرات کے بعد جمعہ کو شراکتِ اقتدار کا یہ فارمولا طے پایا ہے۔

اس سمجھوتے کے تحت ایک خود مختار حکمراں کونسل قائم کی جائے گی۔ اس کا صدر تین، تین سال کے لیے باری باری سول اور فوجی ہوگا۔امریکا کےمحکمہ خارجہ نے اس کو اہم قدم قرار دیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس سمجھوتے سے سویلین قیادت میں عبوری حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔

محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان مورگن اورٹاگس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم سوڈان میں انٹرنیٹ تک فوری رسائی ، نئی قانون ساز اسمبلی کے قیام کے منتظر ہیں ، پُرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کے ذمے داروں کا احتساب کیا جائے اور ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کے لیے پیش رفت کی جائے‘‘ ۔

واضح رہے کہ سوڈان میں سابق مطلق العنان صدر عمر البشیر کی اپریل میں فوجی انقلاب کے نتیجے میں اقتدار سے رخصتی کے بعد سیاسی تعطل جاری ہے اور ان کے خلاف احتجاجی تحریک برپا کرنے والے سیاسی گروپ اور مختلف اداروں کی تنظیموں نے مظاہرے جاری رکھے تھے ۔ وہ حکمراں عبوری فوجی کونسل سے اقتدار ایک سول حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں ۔