آئیرلینڈ بارڈر کا مسئلہ حل کریں، ورنہ ’نوڈیل بریگزٹ‘: بورس جانسن کا یورپی یونین سے مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ وہ آئرلینڈ کے ساتھ بارڈر کا مسئلہ ( بیک اسٹاپ) حل کرے۔انھوں نے سرحدی انتظام کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین اگر برطانیہ سے بریگزٹ کی طلاق کے لیے کوئی سمجھوتا چاہتی ہے تو اسے اس مسئلے کو حل کرنا ہوگا۔

بورس جانسن گذشتہ بدھ کو اقتدار سنبھالنے کے بعد سے متعدد مرتبہ خبردار کرچکے ہیں کہ اگر یورپی یونین نے برطانیہ کے انخلا کے سمجھوتے پر مذاکرات سے انکار جاری رکھا تو پھر وہ اکتیس اکتوبر کو کسی نئے سمجھوتے کے بغیر ( نوڈیل)ہی تنظیم کو خیرباد کہہ دیں گے۔

واضح رہے کہ ان کی پیش رو برطانوی وزیراعظم تھریزا مے نے یورپی یونین سے انخلا کا یہ سمجھوتا طے کیا تھا لیکن آئیرلینڈ اور برطانیہ کے درمیان واقع سرحد کے انتظام اور کسٹم سمیت دیگر محصولات کے بارے میں ابھی تک کوئی سمجھوتا طے نہیں پاسکا ہے۔برطانیہ اور یورپی یونین کے باقی رکن ممالک کے درمیان آئیرلینڈ کے ذریعے ہی زمینی رابطہ ہوسکتا ہے۔

نئے برطانوی وزیراعظم کا یورپی یونین سے سب سے بڑا مطالبہ یہی ہے کہ آئرش بارڈر کا معاملہ برطانیہ کے انخلا کے سمجھوتے سے باہر ایک اور ڈیل کے تحت طے کیا جائے لیکن آئیرلینڈ اور یورپی یونین کے رکن ممالک اس تجویز پر نالاں ہیں اور وہ اس کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں جبکہ برطانیہ خود بھی سخت بارڈر نہیں چاہتا ہے۔

بورس جانسن نے ہفتے کے روز شمالی شہر مانچسٹر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ہم بارڈر کا مسئلہ مکمل طور پر حل کرلیتے ہیں تو پھر برطانیہ کے تنظیم سے انخلا کے لیے ہم بہت زیادہ پیش رفت کرسکیں گے‘‘۔

یورپی یونین کے لیڈروں نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ وہ برطانیہ کے نئے لیڈر کے ساتھ بریگزٹ پر بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن وہ بالاصرار یہ بھی کہہ رہے کہ وہ برطانیہ کے ساتھ پہلے سے طے شدہ انخلا کے سمجھوتے کو دوبارہ نہیں کھولیں گے اور وہ ا س پرمزید بات چیت کے لیے ہرگز بھی تیار نہیں۔

تاہم جانسن کا کہنا تھا کہ وہ کسی ڈیل کے بغیر برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلا نہیں چاہتے ہیں لیکن برطانیہ کو نو ڈیل بریگزٹ کی تیاری کرنا ہوگی۔اگر ایسا ہوتا ہے تو اس صورت میں سرمایہ کار اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اس سے عالمی مارکیٹ میں ’جھٹکے کی لہریں‘ دوڑ جائیں گی اور دنیا کی معیشت متاثر ہوگی۔

اس تناظر میں آئیر لینڈ کو بریگزٹ کے کسی بھی حل میں بڑی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔

یادرہے کہ بیک اسٹاپ ایک انشورنس پالیسی تھی جو آئیر لینڈ اور برطانیہ کے صوبے شمالی آئیرلینڈ کے درمیان پانچ سو کلومیٹر طویل سرحد پر کنٹرول سے بچنے کے لیے وضع کی گئی تھی۔ یہ پالیسی 1998ء میں گڈ فرائیڈے امن سمجھوتے کے تحت ختم کردی گئی تھی لیکن یورپی یونین نے بعد میں اسی بیک اسٹاپ کے نام سے اس کو جاری رکھا تھا اور اس کے تحت’سخت سرحد‘ کے قواعد وضوابط سے بچنے کے لیے یورپی یونین کی کسٹم یونین کے بعض پہلووں کا نفاذ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب آئیرش وزیراعظم لیو واردکر کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ اکتیس اکتوبر کو طلاق کےکسی سمجھوتے کے بغیر ہی یورپی یونین کو خیرباد کہہ دیتا ہے تو پھر آئیرلینڈ اور شمالی آئیرلینڈ کے درمیان ادغام کا ایک مرتبہ پھر سوال پیدا ہوگا لیکن ہم دوستی اور تعاون کے جذبے سے اس مسئلے کوحل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں