.

ناروے: سوتیلی بہن کو قتل کر کے مسجد پر حملہ کرنے والے "فیلپ" کی تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ناروے کے مقامی میڈیا میں پیر کے روز اُس حملے کے متعلق نئی تصاویر اور معلومات سامنے آئی ہیں جس میں ہفتے کے روز دارالحکومت اوسلو کے نواح میں واقع النور اسلامک سینٹر کی مسجد کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

مبینہ حملہ آور Philip Manshaus (21 سالہ) کے مسجد النور کے صحن میں داخل ہونے کے وقت سے ہی ایسا نظر آیا کہ وہ اپنے ارادے میں ناکامی محسوس کر رہا ہے۔ النور اسلامک سینٹر دارالحکومت اوسلو سے 13 کلو میٹر کے فاصلے پر Bærum ٹاؤن میں واقع ہے۔

اس ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ فیلپ کو مسجد میں لوگوں کی بڑی تعداد نظر نہیں آئی جن کو وہ موت کی نیند سلانے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ مسجد میں صرف تین عمر رسیدہ نمازی موجود تھے اور سب ایک دوسرے سے دور تھے۔ فیلپ نے اندھا دھند فائرنگ کر کے ایک شخص کو معمولی زخمی کر دیا۔ مقامی اخبار Dagbladet نے حملہ آور کی ابتدائی تصاویر شائع کی ہیں۔

اخبار کے مطابق جس شخص نے حملہ آور کو گرفت میں لیا اس کا نام "محمد رفيق" اور اس کی عمر 65 سال ہے۔ اس کے بعد رفیق 70 سالہ ساتھ محمد اقبال نے پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ہمت کے مطابق فیلپ کو ضرب لگائی اور اس کے قبضے سے ہتھیار بھی چھین لیا۔ اس دوران پولیس پہنچ گئی اور فیلپ کو گرفتار کر لیا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور فیلپ مسجد کے قریب واقع محلے میں رہتا ہے۔ پولیس نے فیلپ کے گھر پر چھاپا مارا تو وہاں سے ایک 17 سالہ لڑکی کی لاش برآمد ہوئی، یہ لڑکی فیلپ کی سوتیلی بہن ہے جو اس کے ساتھ ہی گھر میں رہتی تھی۔ مسجد کا رخ کرنے سے پہلے فیلپ نے اپنی سوتیلی بہن کو موت کے گھاٹ اتارا۔ فلپ کی سوتیلی بہن چینی نژاد ہے۔ اس طرح فیلپ پر نسلی پرستی کی بنیاد پر قتل اور نفرت انگیزی پھیلانے کے الزامات عائد ہوتے ہیں۔

فیلپ پر مہاجرین سے نفرت اور دہشت گرد کارروائی کے تحت اجتماعی قتل کی کوشش کا بھی الزام ہے۔ محققین کو سوشل میڈیا پر فیلپ کی متعدد تحریریں ملی ہیں جن میں اس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ناروے کو اپنی سرزمین پر غیر ملکیوں کے قیام کی اجازت نہیں دینا چاہیے۔

ایک تحریر میں فیلپ نے متن کے آخر میں "پادری ٹیرنٹ" کو سلام پیش کیا ہے۔ اس کا اشارہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ کو دو مساجد پر حملہ کر کے 51 نمازیوں کو شہید اور درجنوں کو زخمی کرنے والے شدت پسند Brenton Tarrant کی جانب تھا۔

محققین فیلپ کی تمام فائلوں کی جانچ کر رہے ہیں تا کہ اس کی ذہنیت اور رجحان کے بارے میں جان سکیں۔ اس دوران فیلپ کے اسکول کے ساتھیوں اور پڑوسیوں سے بھی بات چیت کی گئی۔ ان لوگوں نے فیلپ کے بارے میں کئی متعدد باتیں بیان کی ہیں۔ تاہمNRK ٹی وی چینل نے ایک تحقیق کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ فیلپ ایک سال کے عرصے میں خصوصی طور پر تبدیل ہو گیا تھا۔ فیلپ کے ٹیکس سے متعلق دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ 30 لاکھ کورونا (ناروے کی کرنسی) کا مالک ہے جو کہ 3.4 لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔

فیلپ کی ماں چند سال پہلے فوت ہو چکی ہے۔ پولیس نے ابھی تک اس بارے میں نہیں بتایا کہ فیلپ نے اپنی سوتیلی بہن کو کس طرح موت کے گھاٹ اتارا... گلا گھونٹ کر، چاقو سے یا پھر گولی مار کر...!