.

کشمیر میں کشیدگی اور نئے قانون سے 70 سال پرانے مہاجرین مستفید

جموں میں مہاجرین کے ایک گروپ کو بھارتی شہریت دے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور بھارت کے درمیان سات عشروں سے متنازع چلی آرہی ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اعلان کے بعد نئے قانون سے برسوں پرانے مہاجرین کو فایدہ پہنچنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت کے نئے قانون کے بعد 70 سال سے پناہ گزین کے طور پر زندگی گذارنے والے ایک گروپ کو بھارتی شہریت دی گئی ہے جس پروہ بہت خوش ہیں۔

ان مہاجرین کے آبائو اجداد سنہ 1947ء کے پُرتشدد واقعات کے بعد ھجرت کرکے جموں وکشمیر میں آباد ہوگئے تھے مگر ریاست کی خصوصی حیثیت کی وجہ سے انہیں باضابطہ شہریت نہیں مل سکی۔

برطانوی استبداد سے آزادی کے بعد برصغیر کو دو الگ الگ ملکوں میں قومیت کی بنیاد پرتقسیم کیا گیا۔ مسلمان اکثریتی علاقوں پرمشتمل پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا جب کہ ہندو اکثریت کی بنیاد پر بھارت کو الگ ملک کا درجہ دیا گیا۔

مگردونوں ملکوں کوآزادی کی بھاری قیمت چکانا پڑی تھی۔ قریبا ڈیڑھ کروڑ لوگ جن میں ہندو، مسلمان اور سکھ شامل ہیں تشدد کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔

مغربی پاکستان سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد ہجرت کرکے جموں وکشمیر اور بھارت کے دوسرے علاقوں میں آباد ہوئے۔ بھارت میں انہیں پناہ گزین کا درجہ حاصل رہا۔

حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی شق 370 اور 35 اے کو ختم کرکے ریاست کی علاحدہ شناخت اور تاریخی حیثیت ختم کردی۔ اس اقدام سے جموں وکشمیر میں موجود ہندو مہاجرین کو وہاں کا باضابطہ شہری ہونے کا موقع مل گیا ہے۔

بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق سنہ 1947ء میں مغربی پاکستان سے 5764 خاندانوں کے 47 ہزار افراد ھجرت کرکے جموں وکشمیر میں آباد ہوگئے تھے۔

جموں وکشمیر کی شہریت حاصل کرنے والے جیت راج نے بتایا کہ آج ہمیں کم سے کم شہریت مل گئی ہے۔ ہم 70 سال سے خودکو پاکستانی قرار دیتے تھے، مگر آج کے بعد ہم بھارتی ریاست کے باشندےہیں۔