چین کے خلاف تجارتی جنگ میں ٹرمپ کی تازہ ترین جوابی ضرب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی شام ایک ٹویٹ میں اعلان کیا ہے کہ چین کی جانب سے سیاسی محرکات کی بنا پر امریکی برآمدات پر ٹیکس عائد کرنے کے جواب میں اب امریکا آنے والی چینی مصنوعات پر بھی 5% اضافی ٹیکس لاگو ہو گا۔
ٹرمپ کے مطابق یہ بات افسوس ناک ہے کہ امریکا کی سابقہ انتظامیاؤں نے اب تک چین کو منصفانہ اور متوازن تجارت سے بچ نکلنے کا موقع دیا ... اس امر نے امریکی ٹیکسوں پر بھاری بوجھ ڈال دیا ... ملک کے صدر ہونے کی حیثیت سے اب میں ایسا نہیں ہونے دے سکتا۔
...unfair Trading Relationship. China should not have put new Tariffs on 75 BILLION DOLLARS of United States product (politically motivated!). Starting on October 1st, the 250 BILLION DOLLARS of goods and products from China, currently being taxed at 25%, will be taxed at 30%...
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) August 23, 2019
ٹرمپ نے بتایا کہ امریکا یکم اکتوبر سے چین کی 250 ارب ڈالر کی مصنوعات پر موجودہ درآمدی ڈیوٹی 25 فی صد سے بڑھا کر 30 فی صد کر دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بقیہ 300 ارب ڈالر کی مصنوعات جن پر یکم ستمبر سے 10 فی صد ٹیکس لاگو ہونا تھا ،،، اب وہ بڑھ کر 15 فی صد ہو جائے گا۔
امریکا ان ٹیکسوں کو بعض مصنوعات پر یکم ستمبر سے لاگو کرے گا تاہم ان میں تقریبا نصف کے قریب سامان پر ٹیکس کو 15 دسمبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔