امریکہ-ایران جنگ بندی کی غیریقینی،اسحاق ڈاراورایرانی ایف ایم کاعلاقائی استحکام پربات چیت

حالیہ امریکی فوجی حملوں کے بعد حالات دوبارہ عدم استحکام کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ہفتہ کو دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کو فون پر بتایا کہ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی حملوں کے بعد جنگ بندی غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہو گئی ہے لیکن اسلام آباد علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے کی کوشش جاری رکھے گا۔

وزرائے خارجہ کے درمیان یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب سنگاپور کے پرچم بردار جہاز پر ڈرون حملے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ فوجی حملوں کا تبادلہ ہوا۔ امریکہ نے کہا کہ اس نے ایرانی ڈرون کی ذخیرہ گاہوں اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے جوابی کارروائی میں خطے میں امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنایا۔

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے منگل کے روز دورۂ پاکستان کے بعد یہ رابطہ ہوا ہے۔ انہوں نے ایران-امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو آسان بنانے اور اس پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے میں اسلام آباد کے کردار کو سراہا۔

ڈار کے ایرانی ہم منصب سے رابطے کے بعد پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، "وزیرِ خارجہ نے خطے اور اس سے باہر پائیدار امن و استحکام کے لیے پاکستان کی طرف سے تعمیری کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔"

بیان کے مطابق عراقچی نے امن عمل میں پیش رفت میں پاکستان کی حمایت کو سراہا اور ایرانی ماہی گیروں کی "محفوظ اور ہموار" وطن واپسی میں سہولت کاری پر اسلام آباد کا شکریہ ادا کیا۔

دونوں عہدیداروں نے ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

تازہ ترین تشدد ایک نازک وقت پر ہوا ہے جب واشنگٹن اور تہران جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

سنگاپور کے پرچم والے تیل بردار جہاز ایور لَولی پر حملہ اس وقت ہوا جب بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن آبنائے ہرمز سے پھنسے ہوئے جہازوں کو عمان کی ساحلی پٹی کے ساتھ متبادل راستے سے نکال رہی تھی۔

حملے کے بعد اقوامِ متحدہ کی میری ٹائم ایجنسی نے کارروائی معطل کرتے ہوئے کہا کہ یہ دوبارہ شروع نہیں ہو گی جب تک اسے یہ یقین دہانی نہ مل جائے کہ بحری جہاز محفوظ طریقے سے منتقل ہو سکتے ہیں۔

ایران نے آبنائے ہرمز پر تیزی سے اپنا کنٹرول قائم کیا ہے۔

فائرنگ کے تازہ ترین تبادلے نے اس بارے میں تازہ شبہات پیدا کیے ہیں کہ آیا فریقین دیرپا تصفیہ طے کرنے کے لیے جنگ بندی کو طویل عرصے تک برقرار رکھ سکتے ہیں۔

قبل ازیں جمعہ کو لبنان، اسرائیل اور امریکہ نے سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد شرقِ اوسط کے دو دیرینہ مخالفین کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں