.

امریکی صدر ٹرمپ کے مشرقِ اوسط کے لیے خصوصی ایلچی گرین بلاٹ مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ اوسط کے لیے خصوصی ایلچی اور اسرائیل ، فلسطین امن منصوبے کے خالقوں میں سے ایک گرین بلاٹ جمعرات کو مستعفی ہوگئے ہیں۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں کام کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیر عہدہ دار کا کہنا ہے کہ گرین بلاٹ اپنے خاندان کے ساتھ مزید وقت گزارنا چاہتے ہیں اور وہ خوش گوار ماحول میں اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہورہے ہیں۔انھیں صدر کا اعتماد حاصل تھا۔

قبل ازیں امریکی حکام نے یہ اشارہ دیا تھا کہ گرین بلاٹ طویل عرصے سے التوا کا شکار مشرقِ اوسط امن منصوبے کے اجرا کے بعد مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انھوں نے 2017ء میں وائٹ ہاؤس میں ذمے داریاں قبول کرتے وقت کہا تھا کہ وہ صرف دو سال کے لیے کام کریں گے۔ اب وہ سبکدوش ہونے کے بعد نیوجرسی میں اپنی بیوی اور چھے بچّوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ گرین بلاٹ اور وائٹ ہاؤس کے سینیر ، صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر نے اسرائیل میں متعیّن امریکی سفیر ڈیوڈ فرائیڈمین کے ساتھ مل کر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان قیام امن کے لیے مجوزہ امن منصوبہ وضع کیا ہے اور صدر ٹرمپ کے اس پہلے دور صدارت کے اب تک کے تما م عرصے کو ا س کام پر صرف کردیا ہے۔

لیکن امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں آیندہ پارلیمانی انتخابات کے انعقاد سے قبل اس مجوزہ مشرقِ اوسط امن منصوبے کے سیاسی حصے کا ا علان نہیں کیا جائے گا۔اس اعلان کا مقصد اسرائیل میں 17 ستمبر کو ہونے والے عام انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت سے گریز ہے۔ان انتخابات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔وہ قبل از یں اپریل میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں حکومت کی تشکیل کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

اس کے بعدصدر ٹرمپ کی مشرقِ اوسط کے لیے ٹیم نے امن منصوبے کے سیاسی حصے کا اعلان موخر کردیا تھا۔امریکا نے جون میں بحرین میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں مجوزہ امن منصوبے کے اقتصادی حصے کا اعلان کیا تھا ۔ تاہم خلیجی لیڈروں نے اس اقتصادی منصوبے پر دست خط نہیں کیے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل سیاسی منصوبے کی تفصیل جاننا چاہتے ہیں۔

اس کانفرنس میں مشرقِ اوسط کے لیے 50 ارب ڈالر کے اقتصادی منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا۔اس کے تحت فلسطین اور ہمسایہ عرب ریاستوں کی معیشتوں کی بہتری کے لیے ایک عالمی سرمایہ کاری فنڈ تشکیل دیا جائے گا۔اس کے علاوہ غربِ اردن اور غزہ کے درمیان پانچ ارب ڈالر کی لاگت سے ایک ٹرانسپورٹ راہداری تعمیر کی جائے گی۔

گرین بلاٹ نے مجوزہ امن منصوبے کے بارے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس میں اسرائیلیوں ، فلسطینیوں اور خطے میں رہنے والے دوسرے لاکھوں افراد ککی زندگیوں میں بہتری کے لیے بڑے امکانات موجود ہیں۔تاہم ان کی مشاورت سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بھی اقدامات کیے، وہ امریکا کی اسرائیل نوازی ہی کی غمازی کرتے ہیں۔

دراصل انھوں ہی نے امریکی صدر کے اسرائیل کی حمایت میں تمام اقدامات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ امریکا کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے کے اعلان میں بھی ان کی مشاورت کارفرما تھی۔ان کی اسرائیل نوازی کی وجہ سے عرب دنیا مجوزہ امن منصوبے کے بارے میں کوئی زیادہ پُرامید نہیں اور وہ پہلے ہی اپنے شکوک کا اظہار کرچکی ہے جبکہ فلسطینی اس منصوبے کو مسترد کرچکے ہیں۔