.

عرب اتحاد:سعودی آرامکو کی تنصیبات پردہشت گردوں کے حملے کی تحقیقات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اتحاد نے سعودی عرب کی بڑی تیل کمپنی آرامکو کی دو تنصیبات پر دہشت گردی کے حملے کے ذمے داروں کے تعیّن کے لیے تحقیقات شروع کردی ہے۔یمن کے حوثی شیعہ باغیوں نے ان دونوں جگہوں پر ڈرون حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’عرب اتحاد کی مشترکہ فورسز کمان متعلقہ حکام کے فراہم کردہ ابتدائی شواہد اورابتدائی چھان بین کی بنیاد پر دہشت گردی کے حملوں کی مزید تحقیقات کررہی ہے اور اس نے حملوں کا نشانہ بننے والی جگہوں سے بھی شواہد اکٹھے کیے ہیں تاکہ ان حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور اس کو عملی جامہ پہنانے والے عناصر کا تعیّن کیا جاسکے۔‘‘

کرنل ترکی المالکی نے مزید کہا کہ ’’عرب اتحاد دہشت گردی کے اس طرح کے خطرات سے نمٹنے اور قومی اثاثوں، بین الاقوامی توانائی کی سلامتی کے تحفظ اورعالمی معیشت کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری طریق کار کو اختیار کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔‘‘

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مطابق ڈرون حملوں سے سعودی آرامکو کی دو تنصیبات میں آگ لگ گئی تھی اور اس آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ان میں ایک تنصیب مملکت کے مشرقی صوبے میں الدمام شہر کے نزدیک واقع بقیق میں ہے اور دوسری تنصیب ہجرۃ خريص آئل فیلڈ میں واقع ہے۔

وزارت داخلہ کی اطلاع کے مطابق ’’ہفتے کو علی الصباح چار بجے آرامکو کی صنعتی سکیورٹی ٹیمیں کمپنی کی بقیق اور خریص میں واقع دو تنصیبات میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے کوشاں تھیں۔انھیں ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔دونوں جگہوں پر لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور متعلقہ حکام نے ان ہر دو واقعات کی تحقیقات شروع کردی ہے۔‘‘

العربیہ کے نمایندے کی اطلاع کے مطابق ان دونوں تنصیبات کے نزدیک کوئی اقامتی علاقہ واقع نہیں ہے۔ ان ڈرون حملوں میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اور بقیق میں آرامکو کی تنصیب کے نزدیک واقع علاقے میں ٹریفک معمول کے مطابق جاری تھا اور شاہراہوں پر گاڑیوں کی روانی میں کوئی فرق نہیں آیا۔