.

مارک ایسپر کا سعودی ولی عہد سے آرامکو حملوں کے ذمہ داروں سے نمٹنے پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے ہفتے کے روز مملکت میں تیل کی تنصیبات پرہونے والے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزیردفاع نے کہا کہ ایران کی طرف سے تخریب کاری کا نشانہ بننے والے عالمی نظام کے دفاع کے لیے امریکا اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ انہوں نے تھوڑی دیر قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلی عہدیداروں کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وائٹ ہائوس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ارامکو حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پرغور کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا تھا کہ "امریکا ارامکو حملوں کے ذمہ داروں کو جواب دینے کے لیے تیار ہے"۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ "میں نے ہفتے کے اختتام پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور عراقی وزیر دفاع نجاح الشمری کے ساتھ سعودی تیل کی تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بارے میں بات کی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکی فوج اس "غیر معمولی حملے" کا جواب دینے کے لئے امریکی "اتحادیوں" کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے جس کی وجہ سے دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ کی تیل پیداوار رک گئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ہفتے کے روز ایران کو حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ حملے یمن سے کیے گئے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی 'ایس پی اے' نے بتایا کہ پیر کے روز امریکی وزیر دفاع نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہ نمائوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں ارامکو کمپنی کی تیل تنصیبات کا موضوع حاوی رہا۔ امریکی وزیردفاع نے سعودی ولی عہد سے ارامکو حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف ممکنہ کارروائی کے مختلف آپشنز پرتبادلہ خیال کیا۔