.

ایران کے سعودی آرامکو پر حملوں میں ملوّث ہونے سے تنازع کا خطرہ بڑھ گیا: پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ایران کے سعودی آرامکو پر ڈرون حملوں میں ملوّث ہونے سے تنازع کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

انھوں نے یہ بات بدھ کو’جوہری ایران کے خلاف متحد‘ کے زیر اہتمام ایران سمٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف پابندیوں میں اضافے کا سلسلہ انتھک جاری رہے گا۔ان کے بہ قول امریکی پابندیوں نے ایرانی رجیم کو ’’سراسیمگی والی جارحیت‘‘ پر مجبور کردیا ہے۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ ’’بہت سے لوگوں نے ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف کوسنا ہے اور ان کے الفاظ کو سیاق وسباق کے مطابق اہم یا مادی یا مناسب قرار دیا ہے۔دنیا اب سچائی کے لیے جاگ رہی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ایران مضبوطی کو جواب دے رہا ہے۔‘‘

مائیک پومپیو نے چینی اداروں پر ایران سے تیل کی منتقلی پر بدھ کو عاید کی جانے والی پابندیوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ہم آج چینی اداروں پر پابندیاں عاید کررہے ہیں،انھوں نے جانتے بوجھتے اور امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران سے تیل کو باہر کہیں منتقل کیا ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا دوسرے ممالک کو ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب سے کاروبار کے خطرات سے آگاہ کرنے جارہا ہے اور وہ ان پر زور دے گا کہ وہ خود کو ایرانی معیشت سے دور ہی رکھیں۔

وزیرخارجہ پومپیو نے خبردار کیا کہ ’’ہم ہراس کمپنی اور ادارے پر پابندیاں عاید کریں گے جو ایران پر عاید کردہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گا۔‘‘انھوں نے اپنی تقریر میں ایران کے تخریبی کردار سے نمٹنے کے لیے امریکا کی سفارت کاری کی جانب بھی شرکاء کی توجہ مرکوز کرائی ہے۔