برطانوی تیل بردار جہاز ایرانی بندرگاہ بندر عباس سے روانہ
ایران کے قبضے میں موجود برطانوی پرچم بردار بحری آئل ٹینکر "اسٹینا امپیرو" نے جمعے کے روز حرکت میں آتے ہوئے ایران کی بندر عباس بندرگاہ کو چھوڑ دیا ہے۔ یہ بات بحری جہازوں کی نقل و حرکت کا ڈیٹا رکھنے والی ویب سائٹ Refinitiv نے بتائی۔ مذکورہ تیل بردار جہاز کو رواں سال جولائی میں ایرانی پاسداران انقلاب نے تحویل میں لے لیا تھا۔
ایرانی صدر حسن روحانی نے جمعرات کے روز نیویارک میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ قانونی اقدامات پورے ہونے کے بعد برطانوی تیل بردار جہاز کو چھوڑ دیا جائے گا۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ مذکورہ تیل بردار جہاز کو تحویل میں رکھنے کا حکم منسوخ کر دیا گیا ہے۔ تاہم وزارت کا کہنا تھا کہ جہاز کے حوالے سے تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں برطانوی تیل بردار جہاز کو قبضے میں لیتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ اس نے بحری قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ اقدام جبل طارق کے نزدیک برطانوی حکام کی جانب سے ایرانی تیل بردار جہاز کو قبضے میں لینے کے دو ہفتے بعد کیا گیا۔ بعد ازاں ایرانی تیل بردار جہاز کو 15 اگست کو چھوڑ دیا گیا تھا۔
ایران نے برطانوی تیل بردار جہاز کے عملے کے 23 میں سے 7 افراد کو رواں ماہ کے دوران آزاد کر دیا تھا۔