.

لیبی فوج کی دارالحکومت طرابلس میں ملیشیائوں کے مراکز پربمباری

بمباری سے قومی وفاق حکومت کو مشکل کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کی زیرکمان فوج نے بدھ کے روز اور رات گئے دارالحکومت طرابلس میں قومی وفاق حکومت کے کئی مراکز پربمباری کی اور حکومت نواز ملیشیائوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق لیبیا کی فوج نے طرابلس کے جنوب میں الخلاطات روڈ، ایئرپورٹ روڈ اور ٹرانسپورٹ ہیڈ کوارٹر پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں حکومت نواز ملیشیا کو بھاری جانی اور مالی نقصان سے دوچار کیا گیا ہے۔

لیبیا کی فوج نے دارالحکومت طرابلس کے نواح میں متعدد محاذوں پرقومی وفاق فورس سے تعلق رکھنے والے مراکزاور کیمپوں پر جمعرات کی صبح شدید اور بیک وقت گولہ باری کا آغاز کیا۔

لیبی فوج کے ایک عہدیدار خالد المحجوب نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو بتایا کہ لیبیا کی فضائیہ نے ان مقامات پر شدید فضائی حملے کیے ہیں جہاں بری فوج کے دستے بھی قومی وفاق حکومت کی حامی ملیشیائوں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لیبی فوج نے طرابلس کے اطراف میں مزید اہم مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ لڑائی کب تک جاری رہے گی۔

لیبی فوج کے حکام کا کہنا ہے کہ قومی وفاق حکومت اپنی وفادار ملیشیا کے حالیہ جانی نقصان پرسخت مایوسی کا شکار ہوئی ہے۔ 'رحبہ شیلڈ' کے کمانڈر بشیر خلف اللہ المعروف 'البقرہ' کے زخمی ہونے، ایک دہشت گرد تنظیم کے سینیر کمانڈر مصطفیٰ التریکی گرفتاری، ترکی سے لیبی حکومت کو اسلحہ فراہم کرنے والے اخوان لیڈرھشام امسیمیرکی وفات اور کئی جنگجوئوں کے منحرف ہو کر لیبی فوج میں شامل ہونے کے واقعات نے حکومت کو سخت مشکل میں ڈال دیا ہے۔

درایں اثںاء لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے سیاسی اور سفارتی حل کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ اٹلی کےدارالحکومت روم اطالوی اور امریکی وزرائے خارجہ نے لیبیا تنازع کے "سیاسی حل " پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لیبیامیں جاری خانہ جنگی کی روک تھام کا واحد راستہ سیاسی طریقے سے تلاش کیا جانا چاہیے۔ادھر برلن میں لیبیا کے بارے میں بین الاقوامی کانفرنس میں بھی تنازع کے سیاسی حل پر زور دیا گیا۔