.

تیونس: پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں اتوار کو پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ ختم ہوگئی ہے اور اس کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح کم رہی ہے۔

ان انتخابات کے نتیجے میں پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت نیا وزیراعظم نامزد کرے گی اور وہ آئین کے تحت دوماہ میں کابینہ کو تشکیل دینے کے پابند ہو گا۔ پارلیمانی انتخابات میں تجربہ کار سیاست دانوں پر مشتمل سیکولر جماعت ندا تیونس، مذہبی سیاسی جماعت النہضہ اور دوسری چھوٹی، بڑی جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔

تیونس میں پارلیمانی انتخابات کے لیے صدارتی انتخابات کے دو مراحل کے درمیان میں ووٹ ڈالے گئے ہیں۔صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں بھی ووٹ ڈالنے کی شرح کم رہی تھی اور دوسرے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو صدارتی امیدواروں نبیل القروی اور قانون کے ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ 13 اکتوبر کو ہوگی۔

پہلے مرحلے میں پروفیسر قیس سعید نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ وہ اور ان کے حریف نبیل القروی سیاست میں نووارد ہیں اور انھوں نے تیونس کی معروف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو پہلے مرحلے میں شکست سے دوچار کیا ہے۔ میڈیا ٹائکون نبیل القروی کی جماعت قلبِ تیونس پارلیمانی انتخابات میں بھی حصہ لے رہی ہے۔