ناروے نے ترکی کو ہتھیاروں کی برآمد روک دی
ناروے نے ترکی کے لیے ہتھیاروں کی کسی بھی نئی کھیپ کی برآمد معلق کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نیٹو اتحاد کے رکن ملک کی جانب سے جمعرات کے روز یہ اعلان شام کے شمال مشرق میں ترکی کے فوجی آپریشن کے جواب میں سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کی شام فضائی معاونت سے شروع ہونے والے ترکی کے زمینی حملے کی مذمت میں مغربی اور عرب ممالک کے بیانات کا تانتا بندھ گیا۔
ترکی کے اس آپریشن میں شمال مشرقی شام میں کئی قصبوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں متعدد شہری جاں بحق اور ہزاروں نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔
فرانس، برطانیہ اور ہالینڈ کے علاوہ یورپی یونین کی جانب سے بھی ترکی کے حملے کی پُر زور مذمت کی گئی ہے ... اور خطے اور اس کے استحکام پر اس آپریشن کے دور رس نتائج سے خبردار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مذکورہ ممالک کا کہنا ہے کہ ترکی کی فوجی کارروائی کے سبب جنگ سے تباہ حال ملک میں انسانی بحران کی سنگینی میں بھی اضافہ ہو گا۔
ترکی نے بدھ کے روز سے شام میں کرد فورسز کے خلاف حملہ شروع کر رکھا ہے۔ یہ کرد فورسز داعش تنظیم کے خلاف کارروائی میں مغربی ممالک کی حلیف ہیں۔
ترکی کے حملے نے بین الاقوامی سطح پر ناراضی کو بھڑکا دیا ہے جب کہ کئی ممالک کو داعش تنظیم کے واپس لوٹ آنے کا بھی خوف ہے۔