.

شام میں ترک آپریشن روکنے کے لیے مائیک پینس کا صدرایردوآن سے جنگ بندی کا سمجھوتا

ترکی شامی کرد ملیشیا کے محفوظ زون سے انخلا کے بعد فوجی کارروائی مکمل ختم کردے گا: امریکی نائب صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نائب صدر مائیک پینس اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے درمیان شام میں جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پاگیا ہے۔اس کے تحت ترکی نے شامی کرد ملیشیا (پیپلز پروٹیکشن یونٹس، وائی پی جی) کے محفوظ زون سے انخلا کے بعد شمالی شام میں اپنی فوجی کارروائیوں کے مکمل خاتمے سے اتفاق کیا ہے۔

اس بات کا اعلان مائیک پینس نے انقرہ میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے جمعرات کے روز ملاقات کے بعد کیا ہے۔انھوں نے ترک ایوان صدر میں صدر ایردوآن سے شام کے شمال مشرقی علاقے میں امریکا کی اتحادی کرد فورسز کے خلاف ترکی کی گذشتہ آٹھ روز سے جاری فوجی کارروائی سے پیدا ہونےو الے بحران پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

مائیک پینس نے اس ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’کردفورسز کا انخلا مکمل ہونے کے بعد ترکی کا آپریشن بھی مکمل طور پر روک دیا جائے گا۔‘‘ انھوں نے ترک صدر سے ملاقات میں یہ کارروائی روکنے پر زوردیا تھا۔

انھوں نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’آج امریکا اور ترکی نے شام میں جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔‘‘ انھوں نے صدارتی محل میں پہلے ترک صدر سے ملاقات کی تھی۔اس کے بعد دونوں ملکوں کے وفود کے درمیان چار گھنٹے سے زیادہ دیر تک بات چیت جاری رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ترکی طے شدہ سمجھوتے کے تحت اپنی تمام فوجی کارروائیوں میں وقفہ کرے گا تاکہ کرد ملیشیا وائی پی جی محفوظ زون سے 120 گھنٹے کے وقت میں واپس چلی جائے۔جب کرد جنگجوؤں کا انخلا مکمل ہوجائے گا تو پھر ترکی کی ’آپریشن امن بہار‘ کے نام سے فوجی کارروائی بھی ختم کردی جائے گی۔

مائیک پینس کا کہنا تھا کہ علاقے میں موجود امریکی فورسز پہلے ہی وائی پی جی کے یونٹس کو سرحدی علاقے سے محفوظ انداز میں پیچھے ہٹانے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کررہی ہیں۔

امریکی نائب صدر کے صدر ایردوآن کے ساتھ طے پانے والے اس سمجھوتے کے تحت ترکی شام کے سرحدی شہر کوبانی ( عین العرب) میں بھی کوئی فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔کرد فورسز نے بدھ کو اس شہر کا کنٹرول شامی فوج کے حوالے کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ’’ترکی اور امریکا شمالی شام میں ’محفوظ زون‘ کے قیام کے مسئلے کے پُرامن حل کے لیے پُرعزم ہیں۔‘‘ترکی کی اس فوجی کارروائی کا مقصد اپنی سرحد کے نزدیک اس محفوظ زون کا قیام ہےتاکہ وہاں شامی مہاجرین کی محفوظ واپسی ہوسکے۔اس نے امریکا کو ماضی میں شام میں اس محفوظ زون کے عدم قیام کی صورت میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

امریکی نائب صدر نے ترک صدر سے بات چیت کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور انھیں شمالی شام میں جنگ بندی کے لیے طے پانے والے اس سمجھوتے سے مطلع کیا ہے۔ اس پر صدر ٹرمپ نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور اسے ایک بڑی خبر قرار دیا ہے۔

مائیک پینس کے اس مشن کا مقصد صدرایردوآن کو شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد فورسز کے خلاف 9 اکتوبر سے جاری فوجی کارروائی روکنے پر آمادہ کرنا تھا اور وہ اس میں کامیاب رہے ہیں جبکہ ترک حکام نے اس ملاقات سے قبل کہا تھا کہ امریکا اور دوسرے مغربی ممالک کی تنقید کے باوجود کرد ملیشیا کے خلاف اس آپریشن کو جاری رکھا جائے گا اور ترکی اپنی سرحد پر ایک دہشت گرد تنظیم کا وجود نہیں چاہتا ہے۔

ترکی شامی کرد ملیشیا کو اپنے ہاں کے کرد باغیوں کی جماعت کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کا حصہ قرار دیتا ہے اور اس نے ان دونوں کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔پی کے کے کو امریکا اور یورپی یونین نے بھی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔