.

شام میں ترکی کی جارحیت پرمیڈیا کا رد عمل سات سالہ رد عمل پر بھاری ہے:ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب شام میں براک اوباما صدر تھے اور خانہ جنگی کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو قریبا پانچ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا شام کے حوالے سے ہماری پالیسی کےنیتجے میں ہمارے ذرائع ابلاغ کا رد عمل اتنا سخت گذشتہ سات سال کے دوران سامنے نہیں آیا جتنا ترکی کی جارحیت کے بعد 72 گھنٹوں میں سامنے آیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ میں واحد شخص ہوں جو امریکی سپاہیوں کی حفاظت کے لیے لڑ سکتا ہوں اور انہیں مضحکہ خیز اور مہنگے لامتناہی جنگوں سے گھر لے آنے کا طعنہ برداشت کر رہا ہوں۔ ڈیموکریٹس ہمیشہ اس منصب کو پسند کرتے تھے جسے میں نے ان سے چھین لیا۔ اب ڈیموکریٹس

میری بنائی دیواروں کو پسند کرنے لگےہیں۔ ان اشارہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار کے منصوبے کی طرف تھا۔

شام کے بارے میں کانگرس کے ساتھ اپنی لڑائی میں صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو بدھ کی شام وائٹ ہاؤس بند کمرہ اجلاس میں ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا جس کے بعد ڈیموکریٹک رہ نماؤں نےاجلاس کا بائیکاٹ کریا اورایک پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ پر کڑی نکتہ چینی کی۔

اس سے پہلے امریکی ایوان نمائندگان نے شمالی شام سے امریکی فوجوں کے انخلا کے صدر کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی تھی اور صدر کے فیصلے کے خلاف کثرت رائے سے ایک قرارداد بھی منظور کی گئی تھی۔