.

مائیک پینس کی صدر ایردوآن سے ملاقات ، ترکی کی شام میں ’جارحیت‘ روکنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نائب صدر مائیک پینس نے انقرہ میں جمعرات کے روز ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کی ہے اور ان سے شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترک فوج کی کرد جنگجوؤں کے خلاف جارحانہ کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن ترک حکام نے واضح کیا ہے کہ ان کے مطالبے کے باوجود یہ کارروائی جاری رہے گی۔

مائیک پینس کے ساتھ وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی اس دورے پر انقرہ آئے ہیں لیکن انھوں نے ترک صدر سے ملاقات سے قبل صحافیوں سے کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔ البتہ تجزیہ کاروں کاکہنا تھا کہ وہ ترکی سے شمال مشرقی شام میں امریکا کی اتحادی کرد فورسز کے خلاف جاری کارروائی روکنے ہی کامطالبہ کریں گے۔

ترکی کی اس کارروائی کے نتیجے میں شام میں ایک نیا بحران پیدا ہوگیا ہے۔متاثرہ علاقے سے دولاکھ سے زیادہ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب جارہے ہیں جبکہ کرد ملیشیا کے زیر انتظام جیلوں سے داعش کے ہزاروں جنگجوؤ ں کے فرار ہونے کے خدشات کا بھی اظہار کیا جارہا ہے۔

ترکی 9 اکتوبر سے شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کررہا ہے۔اس کے ردعمل میں امریکا نے اس پر پابندیاں عاید کردی ہیں ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے آپریشن سے قبل علاقے سے امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا۔اس پر انھیں اندرون اور بیرون ملک تنقید کا سامنا ہے اور ان پر امریکا کی اتحادی کرد فورسز سے مُنھ پھیرنے کا الزام عاید کیا جارہا ہے۔

لیکن صدر ٹرمپ نے بدھ کو اپنے اس فیصلے کو ’’تزویراتی فطانت‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا ہے۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مائیک پینس اور ترک صدر ایردوآن کے درمیان ملاقات کامیاب رہے گی لیکن ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر ترکی کی معیشت کے لیے تباہ کن پابندیاں عاید کردی جائیں گی اور اس کی امریکا کے لیے برآمدات پر محصولات میں بھی اضافہ کردیا جائے گا۔

دریں اثناء وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کا طیب ایردوآن کے نام 9 اکتوبر کو تحریر کردہ ایک خط جاری کیا ہے۔اس میں انھوں نے لکھا تھا’’ اے شخص سخت نہیں بنو‘‘ اور ’’ بے وقوف بھی نہیں بنو‘‘۔ترک نشریاتی ادارے سی این این ترک کے مطابق ترکی نے صدر ٹرمپ کی اپیل مسترد کردی ہے اور خط کو ’ردی کی ٹوکری‘ میں پھینک دیا ہے۔

ایک ترک عہدہ دار نے برطانوی خبررساں ایجنسیاں رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’صدر ٹرمپ کے خط کا وہ اثر نہیں ہوا ہے جس کی وہ توقع کررہے تھے کیونکہ اس میں کوئی بھی سنجیدہ چیز نہیں تھی۔جو چیز واضح ہے، وہ یہ کہ ترکی اپنی سرحد پر ایک دہشت گرد تنظیم کا وجود نہیں چاہتا ہے اور اس کے خلاف کارروائی کوآنے والے رد عمل کی بنا پر روکا نہیں جائے گا۔‘‘