.

ایرانی مداخلت عراق کی صورت حال معمول پر واپس آنے میں رکاوٹ ہے : وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں جاری مظاہروں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے مشن کی جانب سے پیش کردہ تجویز کے بعد امریکی وائٹ ہاؤس بھی مذکورہ مشن کا ہم آواز بن گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے عراقی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف تشدد کا سلسلہ روک دیا جائے۔

امریکا نے اتوار کے روز ایک بیان میں عراق میں حکام کی جانب سے مظاہرین، شہری کارکنان اور میڈیا نمائندوں کو نشانہ بنائے جانے اور انٹرنیٹ سروس پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا۔

وائٹ ہاؤس نے بیان میں عراقی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابی قانون کو کامیابی سے پورا کر کے قبل از وقت انتخابات کا انعقاد کرئے۔ مزید برآں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ عراقی عوام کے لیے بہتر مستقبل کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی مداخلت اور تہران نواز دھڑے عراق کو معمول کی حالت پر واپس نہیں آنے دیں گے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے عراق میں موجود مشن کی طرف سے جاری ایک بیان میں ملک کی سیاسی اشرافیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اندرون اور بیرون ملک موجود اثاثوں کو عوام کے سامنے لائیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ عراقی آئین پر نظرثانی اور ترمیم کرنے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرے گا اور اسے ریفرنڈم میں شامل کرنے میں مدد دے گا۔

اقوام متحدہ کے مشن نے آئین کی شقوں کے مطابق پُر امن احتجاج کے حق پر زور دیا۔ مشن نے عراقی سیکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف تحمل کا مظاہرہ کریں اور مظاہرین کے خلاف براہ راست گولہ بارود کا استعمال نہ کریں۔ بیان میں مُجرموں کے مکمل احتساب اور متاثرین کے نقصانات کے ازالے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔