تیونسی حکومت سے ترک کمپنی سے مشکوک ڈیل کی تحقیقات کا مطالبہ
تیونس کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین نےعدلیہ سے ایک مقامی اور ترک کمپنی کے درمیان طے پائی مشکوک ڈیل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹریڈ یونین کا کہنا ہے کہ اسے شبہ ہے کہ سابقہ تیونسی حکومت اور ترک کمپنی کے درمیان طے پائے معاہدے کی شرائط کو تبدیل کردیا گیا ہے اور ترک کمپنی کو زیادہ مراعات دی گئی ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ملنے والی معلومات میں پتا چلا ہے کہ ترکی کی ایک کمپنی 'تاف' کو سنہ 2007ء میں سابق صدر زین العابدین بن علی کے دور حکومت میں 'النفیضہ ۔ الحمامات' بین الاقوامی ہوائی اڈے کی تعمیر کا ٹھیکہ ملا تھا۔ اس کمپنی نے تیونس میں اپنی ایک نئی شاخ قائم کی جسے'تاف تیونس' کا نام دیا گیا۔ یہ نئی کمپنی ہوائی اڈے کی تعمیر اور اس کی نگرانی کے لیے قائم کی تھی۔ لیبر یونین کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے کے دوران ترکی کمپنی کے ساتھ طے پائی شرائط تبدیل کردی گئی ہیں اور ترکی کو برائے نام فیس ادا کرنا ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ مرعات حاصل کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔
لیبر یونین کے سیکرٹری جنرل نورالدین الطبوبی نے اخبار'الابراس' کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ہمیں خفیہ ذرائع سے پتا چلا ہےکہ ترک کمپنی کو 65 فی صد اضافی مراعات دی گئی ہیں۔ انہوں نے حکومت پرالزام عاید کیا کہ حکومت نے النفیضہ ہوائی اڈاہ مفت میں ترکوں کے حوالے کردیا ہے۔