33 ترک خواتین نے مسلسل 9 ماہ کی محنت سے ایردوآن کے لیے قالین کیسے تیار کیا؟
ترک صدر رجب طیب ایردوآن ایک طرف ملک میں معاشی ابتری ،قرضوں کے مسلسل بڑھنے اور لیرہ کی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں قدر میں کمی کا رونا روتے ہیں مگر دوسری طرف وہ اپنی معمولی خواہشات پر قومی خزانہ سے پانی کی طرح پیسہ بہا رہےہیں۔
انقرہ میں خلافت عثمانیہ کی طرز پر ایک عالیشان محل کی تعمیر کے بعد اب ان کے ایک بیش قیمت قالین کے میڈیا میں چرچے ہو رہےہیں۔ 108 مربع میٹر پر محیط یہ قالین 33 خواتین نے 24 گھنٹے مسلسل 9 ماہ تک تین شفٹوں میں کام کرکے تیار کیا۔
ترک صدر کے لگژری شاہی محل جس کے 1150 کمرے ہیں کے استقالیہ ہال میں بچھائے گئے قالین پر ایردوآن نے بڑے فخر کا اظہار کیا۔ اس محل کی تیاری پر60 کروڑ ڈالر سے زاید رقم صرف کی گئی۔ یہ ہال سفیروں سے ملاقات کے لیے مختص ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ایک مقامی ویب سائٹ 'Cumhuriyet' پر ایک فوٹیج ملی ہے جس میں صدر ایردوآن کے اس لگژری قالین کی ایک ویڈیو موجود ہے۔ اس کے ساتھ اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ قالین کی تیاری میں 29 ملین، چار ہزار دو سوگرہیں لگائیں گئی ہیں۔ قالین کی تیاری پر اٹھنے والے اخراجات کی کوئی تفصیل موجود نہیں تاہم مسلسل نو ماہ تک اگر 33 خواتین کو ماہانہ ایک ہزار ڈالر کی تنخواہ بھی دی گئی ہو صرف تنخواہ کی یہ رقم 2 لاکھ 70 ہزار ڈالر بنتی ہے۔
ترک صدر کی یہ نئی عیاشی ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آئی جب دوسری طرف ملک پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ 460 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔ معاشی نا ہمواری کی وجہ سے 5000 ترک کمپنیاں دیوالیہ ہوچکی ہیں۔ رواں ماہ ترکی میں چار خاندانوں نے غربت کی وجہ سے اجتماعی خود کشی کی۔ ایسے میں صدر محترم اپنے لیے بیش قیمت قالینیں تیار کرنے اور ان پر چلنے پھرنے پر اکڑے پھرتے ہیں۔
اسی قالین پر جمہوریہ اکواڈور کی سفیرہ اپنی سفارتی اسناد صدر ایردوآن کو پیش کررہی ہیں۔ ایک افریقی ملک کے سفیر سے بھی صدر سفارتی اسناد وصول کرتے ہیں۔ فوٹیج میں ایک بچی کو بھی قالین پر دیکھا جاسکتا ہے۔ عملہ اس بچی کو وہاں سے ہٹا رہا ہے تاکہ یہ بچی صدر طیب ایردوآن کی پسندیدہ قالین خراب نہ کردے۔