لیبیا میں ترک فوجی نامطلوب،عدم استحکام کا سبب بنیں گے: اسپیکر پارلیمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا کے مشرقی علاقے میں قائم حکومت کی حامی پارلیمان کے اسپیکر عقیلہ صالح نے کہا ہے کہ ’’ترکی کا جنگ زدہ ملک میں فوجی بھیجنے کا فیصلہ ہرگز قابل قبول نہیں۔اس ملک کے اقدامات خطے بھر میں کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافے کا موجب بن رہے ہیں۔‘‘

انھوں نے یہ بات قبرص کی پارلیمان کے سربراہ دیمطریس سیلوریس کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں کہی ہے۔انھوں نے ترکی اور لیبیا کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

عقیلہ صالح نے اپنے قبرصی ہم منصب پر زوردیا ہے کہ قبرص طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے کیونکہ یہ حکومت اپنا قانونی جواز کھوچکی ہے اور لیبیا کو غیرملکیوں کو فروخت کرنا چاہتی ہے۔

عقیلہ صالح نے سیلوریس کے ساتھ جی این اے اور ترکی کے درمیان گذشتہ ماہ طے پانے والے سمجھوتوں سے نمٹنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی) کے مطابق عقیلہ صالح نے کہا کہ ’’ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ماضی میں بغیر پائیلٹ طیارے،بکتر بند گاڑیاں اور مختلف اقسام کے ہتھیار لیبیا میں جی این اے کی حکومت کو بھیجے تھے۔حال ہی میں انھوں نے لیبیا میں لڑنے کے لیے اپنے فوجی بھیجنے کا بھی اعلان کیا ہے۔‘‘

ان کے بہ قول:’’ترک صدر ایردوآن کا مقصد بحر متوسط کے مشرق میں واقع ممالک کو اشتعال دلانا اور سمندر اور فضا میں خاص اکنامک زون میں ان ممالک کے خود مختاری کے حقوق کو ملحوظ رکھے بغیر مداخلت کرنا ہے۔‘‘

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے دوروز پہلے ہی لیبیا میں اپنے فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ لیبیا میں جنوری کے اوائل میں فوجی بھیجنے سے متعلق پارلیمان میں ایک بل پیش کریں گے۔انھوں نے واضح کیا کہ لیبیا میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت کی درخواست پر ترک فوجی بھیجے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی اور لیبی وزیراعظم فایزالسراج کے زیرقیادت قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کے درمیان اسی ماہ ایک سکیورٹی سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت ان کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ صدر ایردوآن نے 10 دسمبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی جی این اے کی مدد کے لیے لیبیا میں اپنے فوجی اہلکاربھی بھیجنے کو تیار ہے۔

انھوں نے کہا تھاکہ ’’ اگر لیبیا ہم سے ایسی کوئی درخواست کرتا ہے تو ہم وہاں اپنے اہلکاروں کو بھیج سکتے ہیں۔بالخصوص ہمارے درمیان طے شدہ فوجی سکیورٹی سمجھوتے کے بعد تو ایسا ممکن ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے مطابق ترکی پہلے ہی لیبیا میں قومی اتحاد کی وفادار فورسز کو ٹینکوں اور ڈرونز سمیت فوجی سازوسامان مہیا کرچکا ہے۔

اس کے علاوہ ترکی نے گذشتہ ماہ فایزالسراج حکومت سے ایک اور سمجھوتے پر بھی دست خط کیے تھے۔اس کے تحت ترکی میں بحر متوسط کے جنوبی ساحلی علاقے سے لیبیا کے شمال مشرقی ساحلی علاقے تک ایک خصوصی اکنامک زون قائم کیا جائے گا۔یونان اور قبرص نے اس سمجھوتے کو سمندر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ان دونوں ملکوں کا ایک عرصے سے ترکی کے ساتھ سمندری اور علاقائی حدود پر تنازع چلا آرہا ہے۔

عقیلہ صالح اور سیلوریس نے اس سمجھوتے کی بھی مذمت کی ہے۔انھوں نے اس کو بین الاقوامی قانون کی ننگی خلاف ورزی قراردیا ہے جس کی ان کے نزدیک کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔لیبیا کی طرابلس حکومت نے اس سمجھوتے کی منظوری دی تھی لیکن پارلیمان نے ابھی تک اس کی توثیق نہیں کی ہے۔

یونان نے اس سمجھوتے کے بعد لیبیا کے ایتھنز میں تعینات سفیر کو بے دخل کردیا ہے اور اس نے اقوام متحدہ میں ایک عذر داری بھی دائر کی ہے۔قبرص نے اس پر اپنے طور پراعتراضات کیے ہیں۔واضح رہے کہ یورپی یونین کے لیڈروں نے 12 دسمبر کو ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں یونان اور قبرص کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں